دنیا بھر کی مختلف T20 اور T10 فرینچائز لیگز میں کھیل کر اپنی سالانہ آمدنی کا بڑا حصہ کمانے والے کئی پاکستانی کھلاڑی پاکستان کرکٹ بورڈ کے حالیہ اقدامات سے ناخوش ہیں۔ پی سی بی اور بعض لیگز کی انتظامیہ/فرینچائزز کے درمیان ہر کھلاڑی کی این او سی فیس کی ادائیگی پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
ابوظہبی میں منعقد ہونے والی سالانہ T10 لیگ کے منتظمین اب متبادل کھلاڑیوں کی تلاش میں پریشان ہیں، کیونکہ پی سی بی نے لیگ میں شامل ہر پاکستانی کھلاڑی کے بدلے فرینچائزز سے 10,000 ڈالر این او سی فیس ادا کرنے کا مطالبہ سامنے رکھ دیا ہے۔
لیگ کی ایک فرینچائز سے وابستہ ایک عہدیدار نے جمعرات کو ٹیلی فون پر بتایا ہمیں جس بات نے حیران کیا وہ یہ تھی کہ ہم نے ستمبر کے آخر میں کھلاڑیوں کے این او سی کے لیے درخواست دی تھی، لیکن ہمیں 10 ہزار ڈالر فیس کا مطالبہ چند دن پہلے ہی موصول ہوا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ لیگ ہفتے کے روز سے شروع ہونے والی ہے، اس لیے فرینچائزز اب لیگ کے لیے سائن کیے گئے 14 سے 15 پاکستانی کھلاڑیوں کے متبادل کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا یہ انتہائی غیر پیشہ ورانہ رویہ ہے۔ اگر پی سی بی این او سی فیس وصول کرنا چاہتے بھی تھے، تو انہیں فرینچائزز اور انتظامیہ کو کوئی حل نکالنے کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے تھا۔ ان کا مطالبہ بہت تاخیر سے آیا۔
پی سی بی نے گزشتہ سال سے کسی بھی لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو سائن کرنے والی فرینچائزز سے این او سی فیس مانگنے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور حال ہی میں نیپال پریمیئر لیگ کی فرینچائزز نے بھی شکایت کی تھی کہ ان سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہر کھلاڑی کے این او سی کے لیے 25,000 ڈالر فیس ادا کرنے کا کہا گیا تھا۔
این او سی فیس کے تاخیر سے کیے گئے مطالبے کے باعث بالآخر صرف دو پاکستانی کھلاڑی، حسین طلعت اور جہانداد خان ہی نیپال لیگ میں شرکت کر سکے، حالانکہ ابتدائی طور پر فرینچائزز نے لیگ کے لیے تقریباً 8 سے 10 پاکستانی کھلاڑیوں کو سائن کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کچھ کھلاڑی اپنے اخراجات پر وہاں پہنچ بھی گئے تھے لیکن این او سی کا مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے بغیر کھیلے ہی واپس لوٹ آئے۔
پی سی بی دیگر لیگز مثلاً امریکا کی میجر لیگ اور امارات کی انٹرنیشنل T20 سے بھی فی کھلاڑی 25,000 ڈالر این او سی فیس کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
کھلاڑیوں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے اکثر بعض لیگز سے اتنی رقم بھی نہیں کماتے کہ ان کی فرینچائزز انہیں سائن کرنے کے لیے این او سی فیس ادا کرنے کی متحمل ہو سکیں۔
ایک فرسٹ کلاس کھلاڑی نے بتایا جی ہاں، ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کو فیس اور الاؤنسز ملتے ہیں لیکن اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ہم سب کا انتخاب قومی ٹیموں میں نہیں ہونے والا یہ چھوٹی لیگز مزید کمانے کے لیے ہماری لائف لائن ہیں۔
پی سی بی کے ایک ذریعہ نے وضاحت کی کہ امریکا، کینیڈا، یو اے ای اور نیپال جیسے ایسوسی ایٹ ممالک کے کھلاڑیوں کی پاکستان سپر لیگ میں اتنی زیادہ مانگ نہیں ہے جتنی کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی ان کی لیگز میں زیادہ مانگ اور قدر ہے۔انہوں نے مزید کہا اسی لیے این او سی فیس وصول کرنے کے معاملے نے جنم لیا ہے۔
پاکستان میں میڈیا رپورٹس سے اشارہ ملتا ہے کہ پی سی بی چند دنوں میں تقریباً 20 کھلاڑیوں کے لیے نئے سینٹرل کنٹریکٹ دینے کے وقت غیر ملکی لیگز کے لیے نئی این او سی پالیسی کا اعلان کرے گا۔
ترمیم شدہ پالیسی کے تحت T20 اسپیشلسٹ قرار دیے گئے ان کھلاڑیوں کے لیے T20 اور T10 لیگز کی تعداد کی حد ختم کر دی جائے گی جنہیں سینٹرل کنٹریکٹ ملتے ہیں جبکہ ڈوئل فارمیٹ (دونوں فارمیٹس) کے کھلاڑی کے طور پر سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو سالانہ ایک غیر ملکی لیگ میں شرکت کی اجازت ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈ بال (ٹیسٹ) کیٹیگری میں کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو کسی بھی بیرون ملک T20 یا T10 مقابلوں میں شرکت کی اجازت نہیں ملتی لیکن پی ایس ایل کے لیے ان پر غور کیا جا سکتا ہے۔سیشن 26-2025 کے پچھلے کنٹریکٹس 30 جون کو ختم ہو چکے ہیں۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک کھلاڑی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی وجہ سے پہلے ہی ان لیگز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مانگ نہیں تھی جہاں زیادہ تر فرینچائز مالک آئی پی ایل (IPL) فرینچائزز یا بھارتی کمپنیاں/افراد ہیں۔انہوں نے کہا، دنیا بھر میں کئی چھوٹی لیگز ہو رہی ہیں اور اس این او سی کی شرط کا مطلب ہے کہ ہم نقصان میں رہیں گے کیونکہ یہ چھوٹی لیگز پی سی بی کی این او سی فیس اور ہماری فیس دونوں ادا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔
بھارتی مالکان کے زیر اثر لیگز میں اعلیٰ درجے کی لیگز شامل ہیں جیسے ساؤتھ افریقہ T20، امارات لیگ، دی ہنڈریڈ اور بالآخر کیریبین پریمیئر لیگ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پی سی بی غیر ملکی لیگ فرینچائزز سے این او سی فیس طلب کرنے کی اپنی پالیسی کے گرد پھیلے اس تنازع پر خاموش رہا ہے۔
حقیقت میں پی سی بی نے اس سیزن میں پریذیڈنٹ کپ اور ون ڈے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے اپنی ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ڈیپارٹمنٹل ٹیموں سے بھی تقریباً 15 لاکھ روپے اینٹری فیس وصول کی ہے۔