پاکستان میں شادیوں کا سیزن جاری ہے اور اسی دوران ایک کم عمر جوڑے کی محبت کی کہانی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ حال ہی میں 15 سالہ طالب علم نے اپنی پسند کی شادی کے بارے میں ایک انٹرویو دیا، جس میں اس نے پہلی ملاقات سے لے کر رشتہ طے ہونے تک کی دلچسپ تفصیلات بتائیں۔
نوجوان نے بتایا کہ وہ اپنی شادی کے لیے اتنا پرجوش تھا کہ شادی سے ایک رات پہلے کئی مرتبہ نیند سے اٹھ کر اپنی شیروانی اور کُلہ دیکھتا رہا۔ اس کے مطابق پہلی مرتبہ اس نے اپنی ہونے والی اہلیہ کو ایک شادی کی تقریب میں دیکھا تھا، جہاں وہ دولہے کی آمد پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہی تھیں۔ اسی موقع پر وہ اسے پسند آ گئی۔
نوجوان نے بتایا کہ جب اس نے لڑکی سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے اپنے والد کا حوالہ دے کر خبردار کیا، تاہم شادی کی خواہش ظاہر کرنے پر لڑکی نے اسے اپنے والدین کے ذریعے رشتہ بھیجنے کا مشورہ دیا۔
طالب علم کے مطابق جب اس نے اپنے والد سے شادی کی بات کی تو انہوں نے بتایا کہ لڑکی سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ اس کے باوجود نوجوان اپنے فیصلے پر قائم رہا اور گھر والوں کی رضامندی سے دونوں کا رشتہ طے ہو گیا۔
اس نے مزید بتایا کہ ابتدا میں اسے اپنی اہلیہ کے اشارے سمجھنے میں دشواری ہوتی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ ان کے بات چیت کرنے کے انداز کو سمجھنے لگا۔ نوجوان نے یہ بھی بتایا کہ شادی سے پہلے دونوں کی چند مرتبہ ہی گفتگو ہوئی تھی، تاہم وہ پہلی ملاقات میں ہی اسے پسند کرنے لگا تھا۔
دوسری جانب اس انٹرویو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متعدد صارفین نے کم عمری میں شادی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس عمر میں نوجوان عموماً مالی طور پر خودمختار نہیں ہوتے اور ازدواجی زندگی کی ذمہ داریاں نبھانا آسان نہیں ہوتا۔
کچھ افراد نے میڈیا اداروں پر بھی اعتراض کیا کہ ایسے واقعات کو غیر معمولی کامیابی یا قابلِ تقلید محبت کی کہانی بنا کر پیش کرنے کے بجائے کم عمری کی شادی سے جڑے قانونی، تعلیمی اور معاشرتی پہلوؤں کو بھی سامنے لانا چاہیے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اسد اور نمرہ بھی 16 سال کی عمر میں شادی کرنے کے باعث سوشل میڈیا پر مشہور ہوئے تھے۔ اب ایک اور کم عمر جوڑے کی کہانی نے پاکستان میں شادی کے لیے مناسب عمر، تعلیم اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو دوبارہ جنم دے دیا ہے۔