پاکستان کیساتھ تجارتی حجم کو 5ارب ڈالر تک لے جائیں گے: ترک صدر اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں، پاکستان کے عوام سے ہمیشہ بہترین مہمان نوازی، محبت ملتی ہے اور یہاں آکر بےحد خوشی محسوس کرتا ہوں، آج پاکستانی پارلیمنٹرینز سے خطاب کرنے کا موقع ملا ۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کیساتھ مختلف سطح پر تعلقات کو فروغ دے رہےہیں اور تجارت سمیت دیگر امور پر تعلقات کو آگے بڑھا رہے ہیں، دونوں ممالک کا اعلیٰ تذویراتی تعاون کونسل کا اجلاس آج ہوگا۔

رجب طیب اردوان نے اعلان کیا کہ پاکستان کیساتھ تجارتی حجم کو 5ارب ڈالر تک لےجائیں گے، مضبوط سیاسی اور تجارتی روابط کا دونوں ممالک کو فائدہ ہونا چاہیے، پاکستان اور ترکی کا تجارتی حجم تعاون اپنی صلاحیت سے کہیں کم ہے.

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری کی کوئی قومیت نہیں ہوتی ، ہم سرمایہ کاری کرنیوالی غیرملکی اور ترکش کمپنیوں میں فرق نہیں کرتے، ہم نے سیاحت میں 35 بلین ڈالرز تک اپنا ریونیو بڑھایا ، معاشی اور تجارتی حملوں کے باوجود ترکی استحکام کی جانب گامزن ہے، ترکش ایئر لائنز کو 126ممالک تک رسائی ہے۔

ترک صدر نے کہا پاکستان کی ہر ممکن مدد کےلئے تیار ہیں، ہم جانتے ہیں پاکستان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے، اعلیٰ سطح پر دوروں سے تعاون کے نئے امکانات سامنے آتے ہیں، ترک تاجروں کو سی پیک پر بریفنگ دینے کی ضرورت ہے ، ترک سرمایہ کاروں کی سی پیک سےآگاہی کیلئے ہم مدد کو تیار ہیں۔

رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی صحت کے شعبے میں مغرب کے کئی ممالک سے بہت آگے ہے، پاکستان کیساتھ دفاعی شعبے میں تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے اور ٹرانسپورٹیشن ،صحت ، توانائی، تعلیم پرتعاون کررہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ میں اور عمران خان اکنامک اسٹریٹجی فریم ورک کا تاریخی معاہدہ کرنے جارہے ہیں، ترک سرمایہ کار پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری پر دلچسپی رکھتے ہیں، ہیلتھ کیئر کیلئے دنیا ترکی کا رخ کرتی ہے، ترکی نے جدید اسپتال تعمیر کئے ہیں ، ہیلتھ کیئر کیلئے پاکستانی عوام ترکی آسکتے ہیں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.