کورونا کرفیو کی خلاف ورزی، بیوی نے شوہر ہی کو گرفتار کروا دیا

سعودی مملکت میں کئی اہم مقامات پر جزوی کرفیو نافذ ہے۔ کرفیو کی اس خلاف ورزی پر اب تک درجنوں افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ تاہم پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والا ایک بدنصیب شخص ایسا ہے جسے پولیس، فوج نے نہیں پکڑا نہ ہی اس کی کسی سوشل میڈیا صارف نے شکایت کی۔ بلکہ خود اس شخص کی بیوی نے پولیس کو اطلاع دے کر اسے پکڑوا دیا۔

سعودی عرب میں ایک خاتون نے جسے مقامی ظاہر کیا جا رہا ہے، سیکیورٹی اہلکاروں کو شکایت لگا دی کہ اس کا خاوند رات کے اوقات میں لگے کرفیو کی پرواہ کیے بغیر گھر سے باہر چلا گیا ہے، اس کے چند دوست بھی اس کے ساتھ مل کر کرفیو کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک شخص کی آواز سُنائی دے رہی ہے جو مبینہ طور پر سیکیورٹی اہلکار معلوم ہوتا ہے۔

یہ شخص بتاتا ہے کہ کس طرح اسے ایک خاتون نے بتایا ہے کہ اس کا خاوند کرفیو کی پرواہ کیے بغیر گھر سے نکل پڑا ہے۔ اس بارے میں دعوے کیا جا رہے کہ خاتون کی شکایت کے بعد اس کے خاوند کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع سے ابھی تک اس واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ جو شخص کرفیو کے اوقات میں باہر آئے گا، اس پر دس ہزار ریال کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ دوسری بار اس خلاف ورزی کو دوہرانے پر جرمانے کی رقم بڑھا کر 20 ہزار ریال کر دی جائے گی اور ساتھ میں 20 دِن کے لیے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑے گی۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل ایک سعودی خاتون کو کرفیو کی خلاف ورزی کی ویڈیو بنانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ خاتون مملکت میں عائد جزوی کرفیو کی ذرا بھی پروا نہ کرتے ہوئے گاڑی لے کر سڑک پر آ گئی اوراپنی ویڈیو بنا کر لوگوں سے کہنے لگی کہ سعودی حکام نے کرفیو کی خلاف ورزی پر ہزاروں درہم کا جرمانہ لگا دیا ہے۔ بھلا کوئی موسم بہار میں خود کو کیسے گھر تک محدود رکھ سکتا ہے۔ چاہے لاکھوں ریال کا جرمانہ بھی بھرنا پڑے، ہم تو باہر آئیں گے۔ پھر یہ لڑکی تمسخر کے انداز میں کورونا کو مخاطب کر کے کہتی ہے ، آجاؤ ، وائرس آجاؤ، کوئی بات نہیں ہم بچ جائیں گے۔ اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی دیر تھی کہ ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہواتھا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

8