بلوچستان کی ساحلی پٹی پر نایاب سمندری حیات کو درپیش خطرات

اس میں  گوادر  کے مشرقی و مغربی ساحل، پسنی اور سونمیانی شامل ہیں۔ بلوچستان کی اس طویل ساحلی پٹی پر بہت سی نایاب سمندری انواع  پائی جاتی ہیں، جن میں سبز اور زیتونی کچھوے، سبز ڈولفن، وہیل اور دیگر کئی چھوٹی نایاب نسل کی مچھلیاں شامل ہیں۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان کے ساحل بھی آبی آلودگی سے محفوظ نہیں رہے اور پلاسٹک کی اشیاء  کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے  باعث زیر سمندر ان اشیاء کی ایک موٹی تہہ بنتی جا رہی ہے، جس کا براہِ راست اثر اوشین کرنٹ پر پڑا ہے۔ واضح رہے کہ یہ اوشین کرنٹ دنیا بھر میں بارشوں کے نظام اور  موسمی پیٹرن بناتا ہے۔

مگر پلاسٹک کی آلودگی سے سب سے زیادہ سمندری حیات متاثر ہوئی ہیں۔ اکتوبر 2017 میں بلوچستان کی ساحلی پٹی پر 160 ناٹیکل میل کے فاصلے پر مہر گل نامی ایک ماہی گیر کو ایک ایسی مردہ شارک ملی تھی، جس کا دھڑ بڑے پولیتھن شاپر میں بری طرح پھنسا ہوا تھا اور وہ از خود اس سے نکلنے سے قاصر تھی۔ ایک اور واقع میں کراچی کے سمندر میں نور محمد نامی ایک ماہی گیر کو ایک کیٹ فش ملی، جس کا پورا جسم پلاسٹک کی پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا اور اس سے نکلنے کی جدوجہد میں کیٹ فش کی موت واقع ہو گئی تھی۔

پسنی سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی ظریف  بلوچ کے مطابق پسنی اور گوادر کے ساحلوں پر اس وقت سب سے زیادہ خطرہ سبز اور زیتونی کچھوے کو  لاحق ہے۔ 2019ء کے اواخر  میں  ہمیں ہفتہ وار  مرے ہوئےکچھووں کے  دو سے تین خول مل رہے تھے، جس کی بڑی وجہ پلاسٹک  کی آلودگی ہے۔ مادہ  کچھوا  بلوچستان میں استولہ جزیرے اور جیوانی  کے ساحلوں پر مخصوص مقامات پر انڈے دیتی ہے، جس کے لئے وہ ساحل کی ریت میں  رات کی تاریکی میں گہرا گھڑا  کھودتی ہے۔

ساحلوں کی مٹی میں پلاسٹک کے شاپروں کی بہتات کے باعث اگر  اسے دشواری کا سامنا ہو تو وہ انڈے دیے بغیر واپس چلی جاتی ہے اور اگلی رات کسی دوسرے مقام پر گڑھا کھودتی ہے۔ یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ 100 انڈوں  میں سے جو کچھوے نکلتے ہیں ان میں سے محض ایک یا دو ہی سروائیو کر کے سمندر تک پہنچ پاتے ہیں۔ ان سے بیشتر ساحلوں پر بکھرے پلاسٹک کے شاپرز کو خوراک سمجھ کر کھا لینے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

گوادر سے تعلق رکھنے والے سینئر میرین ایکسپرٹ عبد الرحیم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ساحلی پٹی پر آبی حیات کی معدومی اور تیزی سے ہلاکت کی ایک بڑی وجہ  غیر قانونی ماہی گیری ہے، جس میں ماہی گیر  زیادہ سے زیادہ شکار حاصل کرنے کے لئے انتہائی باریک جال استعمال کرتے ہیں، جسے مقامی زبان میں گر نیٹ کہا جاتا ہے۔ اس جال میں  چھوٹی مچھلیوں کے علاوہ دیگر ایسے آبی جاندار بھی پھنس جاتے  ہیں، جو پانی سے باہر سانس لیتے ہیں۔ ان میں سبز اور زیتونی کچھووں کے چھوٹے بچے قابل ِ ذکر ہیں۔

اس کے علاوہ  عموما ماہی گیر اپنے ناکارہ جال ساحل پر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، جو سمندری لہروں اور تیز دھوپ کے باعث چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ کر  سمندر میں  شامل ہو جاتے ہیں اور  کچھووں اور مچھلیوں کے اندرونی انظام کو متاثر کرتے ہیں، ''میں ایک طویل عرصے تک وائلڈ لائف سے منسلک رہا ہوں اور ہم نے دوران ِ تحقیق نوٹ کیا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بہت سی سمندری حیات ہمارے ساحلوں سے کوچ کر چکی ہیں ۔ کیونکہ اب موسم ِ گرما طویل اور  شدید ہوتا جا رہا ہے جبکہ  ماہی گیری کے لئے بہترین موسم سرما ہوتا ہے۔‘‘

لسبیلہ یونیورسٹی آف میرین سائنسز میں بی ایس کے طالبعلم محمد فیضان کا کہنا ہے کہ  مقامی افراد میرین لائف کی حفاظت کے حوالے سے بہت کم معلومات رکھتے ہیں اور فی الوقت سب ہی کے لئے سب سے بڑا مسئلہ روزگار ہے، '' میں اکثر اپنے اساتذہ سے پوچھتا ہوں کہ ملک میں  ماہی گیری  کے فروغ  اور اس میں جدید تکنیک کا استعمال کرنے کے حوالے سے اقدامات کی شدید قلت ہے تو تعلیم  مکمل کر نے کے بعد یہاں ہمارا مستقبل کیا ہے؟ بلوچستان  کی ساحلی پٹی پر سمندری حیات  کو جس  لیول کی بائیو لوجیکل ڈائی ورسٹی کا سامنا ہے، اس کے مطابق یہاں تحقیق نہیں کی جا رہی۔‘‘

 کچھ عرصہ قبل مکران کی ساحلی پٹی پر زیتونی کچھووں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو گئی تھی تو  لسبیلہ یونیورسٹی نے کراچی یونیورسٹی  کے شعبۂ میرین سائنسز  اور وائلڈ لا ئف کراچی کے ساتھ ایک  تحقیق کا آغاز کیا اور ماہی گیروں کی کشتیوں پر جی پی ایس  کے ساتھ مخصوص سینسر لگائے گئے جو سمندر میں دور تک جاتی تھیں۔ تب معلوم ہوا کہ زیتونی کچھوؤں کی بڑی تعداد گہرے سمندر میں موجود ہے مگر  موسمیاتی تبدیلیوں، خطرناک جالوں اور بڑھتی ہوئی آبی الودگی کے باعث کچھووں  نے مکران کے ساحلوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔

اس حوالے سے کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ میرین سائنسز کے سینئر پروفیسر شعیب کیانی کا کہنا تھا کہ سینٹر آف ایکسی لینس  ان میرین سائنسز کراچی یونیورسٹی کے تعاون  سے کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ سمندر میں شامل ہونے والے پلاسٹک کے چھوٹے ٹکڑوں کو کھانے کے باعث کچھووں میں تولیدی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ نر اور مادہ کچھووں کی پیدائش کا تناسب اب برابر نہیں رہا اور زیادہ تر مادہ پیدا ہو رہی ہیں ۔  

یہ امر محققین کے لئے انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ زمین پر موجود ہر طرح کے جاندار کی اپنی ایک ارتقائی تاریخ ہے اور وہ زمانے کے بہت سی تبدیلیوں کے ساتھ اپنی نوع کو برقرار رکھ  کر اس دور تک پہنچے ہیں، جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے عروج کا دور ہے۔

قدرتی عوامل  میں انسان کا بڑھتا ہوا عمل دخل جنگلی و سمندری حیات کی معدومی کا سبب بن رہا ہے اور بلوچستان کے ساحلوں پر ہونے والے تبدیلیاں  بھی  کسی بڑے ارتقائی عمل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سالانہ دو ہزار ڈولفن اور  28 ہزار کے قریب چھوٹی مچھلیاں اور کچھوئے ہلاک  ہو رہے تھے۔

بلوچستان کی ساحلی پٹی پر  ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق  جاننے کے لیے جب ڈی ڈبلیو نے وائلڈ لائف پاکستان سے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ کوئٹہ اور گوادر میں وائلڈ لائف کے دفاتر اب فنکشنل نہیں ہیں البتہ کراچی سینٹر تحقیق میں کافی سرگرم ہے۔ وائلڈ لائف کراچی کے سینئر ترجمان کے مطابق سندھ اور بلوچستان کی کوسٹل بیلٹ پر معدومی کے خطرے سے دوچار سمندری حیات کے تحفظ کے لئے وائلڈ لائف کی طرف سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، '' ہم نے غیر قانونی شکار کو روکنے کے لئے بھرپور اقدامات کیے ہیں۔ نا صرف ماہی گیروں کو ٹریننگ اور معلومات فراہم کی گئی ہیں بلکہ انتہائی باریک جال اور ساحلی حدود میں پلاسٹک استعمال کرنے پر مکمل پابندی لگائی جا چکی ہے۔ نیز بلوچستان و سندھ کی حکومتیں اس پر  باقاعدہ ایکٹ بھی بنا چکی ہیں۔‘‘

 لیکن ماہرین کے مطابق صرف قانون سازی ہی کافی نہیں ہے۔ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک مکمل اسٹرٹیجی  اور مسلسل ڈیٹا و معلومات  تک رسائی انتہائی ضروری ہے تاکہ  نوٹ کیا جا سکے کہ میرین  لائف پروٹیکشن کے لئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں، ان سے کچھووں، مچھلیوں، ڈولفن  یا دیگر سمندری حیات کو درپیش خطرات میں کتنی کمی ہوئی ہے؟


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

29