کینسر سے چھٹکارے کی امید، ’ہیئر سٹائل بنوا کر اچھا لگا‘

انڈیا کے مشہور اداکار سنجے دت نے کہا ہے کہ وہ پُرامید ہیں کہ جلد کینسر سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔

منا بھائی ایم بی بی ایس کے کردار سے مشہور ہونے والے بالی وڈ اداکار سنجے دت کو پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے ڈاکٹرز کی ہدایات پر علاج کے لیے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ گذشتہ ماہ سنجے دت کے  تیسرے یا چوتھے درجے کے کینسر میں مبتلا ہونے کی اطلاعات کے بعد اب ان کے علاج سے متعلق خبریں ہیں کہ پہلی کیموتھراپی مکمل ہوگئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر بالی وڈ اداکار  کے ہیئر سٹائلسٹ علیم حکیم نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بالی وڈ اداکار سنجے دت نہ صرف پہلے سے بہتر دکھا ئی دے رہے ہیں بلکہ کام پر واپس آنے کے حوالے سے اپنے بالوں کی ہیر سٹائلنگ بھی کروا رہے ہیں۔

اس ویڈیو پیغام میں سنجے دت نے اپنے مداحوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’ہیلو میں ہوں سنجے دت اور سیلون میں واپس آ کر ہیئر سٹائل بنوا کر مجھے کافی اچھا محسوس ہو رہا ہے۔‘

    

View this post on Instagram           A post shared by Aalim Hakim (@aalimhakim) on Oct 14, 2020 at 4:29am PDT

سنجے دت نے اپنی بھنووں پر نمایاں کیمو تھراپی کے نشان کو دکھاتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ کو یہ نشان نظر آ رہا ہے تو یہ میری زندگی کا ایک داغ ہے لیکن میں بہت پُرامید ہوں کہ جلد ہی اس کینسر سے آزاد ہو جاؤں گا۔‘

اداکار نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ وہ کام سے کچھ وقفہ لے رہے ہیں اور علاج کے لیے جا رہے ہیں۔

بالی وڈ اداکار نے اپنی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کے جی ایف 2 کے لیے بڑھ رہا ہوں کیونکہ مجھے کے جی ایف میں کردار کی ادائیگی کے لیے اس کی بہت ضرورت ہے اور اس پراجیکٹ کی شروعات ہم نومبر میں کریں گے۔‘

اُنہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے دوبارہ سیٹ پر واپس آنے پر بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔‘

انڈین میڈیا کے مطابق پہلے سنجے دت نے علاج کے لیے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا تھا اور 5 سال کا ویزا بھی حاصل کرلیا مگر بعد میں انہوں نے اپنا علاج ممبئی کے کوکیلا بین اسپتال میں شروع کروا لیا تھا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

194