جو بائیڈن جمعرات کو اپنے خطاب میں کرونا ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے

ویب ڈیسک — 

نو منتخب صدر جو بائیڈن جمعرات کی شام کرونا وائرس بحران پر قابو پانے کے لیے اپنے منصوبہ کا اعلان کریں گے۔

بائیڈن کے منصوبے میں امریکی عوام کو ویکسین کی دستیابی اور عالمی وبا سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کی کوششیں اہم ترین پہلو ہوں گے۔

نئے صدر جو 20 جنوری کو اپنے وائٹ ہاؤس کے چار سالہ دور اقتدار کا آغاز کریں گے، اس منصوبے کا اعلان امریکی عوام سے اپنے خطاب میں کریں گے۔

نو منتخب صدر پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اپنے پہلے100 دنوں میں دس کروڑ لوگوں کو ویکسین دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ توقع ہے کہ بائیڈن اپنے منصوبے میں ویکسین لگانے کی مہم کو وسیع تر کرنے کے لیے فنڈنگ کا بھی اعلان کریں گے۔

اب تک ایک کروڑ امریکیوں کو ویکسین کی پہلی خوراک دی جا چکی ہے۔

SEE ALSO:ٹرمپ کے دستخط کا انتظار، کرونا امداد کے تحت اضافی بے روزگاری الاؤنس کی معیاد ختم

جو بائیڈن کے پلان کا ایک اہم حصہ امریکی عوام کو کرونا بحران سے پیدا ہونے والی مشکلات کے پیش نظر مزید امدادی رقوم دینا ہو گا۔ متوقع پلان کے مطابق حکومت امدادی رقوم لوگوں کے بینک اکاونٹس میں جمع کرائے گی۔

اس سے قبل کرونا ریلیف پیکیج کے تحت دی گئی سٹیمیولس رقوم کی فراہمی اختلافات کے باعث تاخیر کا شکار رہی۔

بائیڈن کے اقتصادی امور کے مشیر برائن ڈیس نے خبر رساں اداررے رائٹرز کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نو منتخب صدر کے پلان میں چھوٹی سطح کے کاروباروں کے لیے امداد بھی شامل ہو گی۔

ان کے مطابق بائیڈن کانگرس سے کہیں گے کہ پہلے اقتصادی سٹیمیولس اقدامات کی منظوری دی جائے اور اس کے بعد صحت اور انفراسٹرکچر کی طرح کے طویل المعیاد شعبوں میں روزگار کے ذریعے معاشی بحالی کے اقدامات پر کام کیا جائے۔

سینیٹ کے ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے کہا ہے کہ ایوان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کرونا ریلیف بل کا پاس کرنا ان کی پارٹی کی اہم ترین ترجیح ہو گی۔

ایوان نمائندگان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے بعد سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل والے توجہ طلب قومی امور میں اضافہ ہو گیا ہے۔

تاہم بائیڈن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سینیٹ مواخذے کے معاملے اور دوسری ترجیحات میں توازن رکھ کر اپنے فرائض انجام دے گی۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

24