مغرب میں شدت پسند طبقہ اسلامو فوبیا کو بڑھاوا دے رہا ہے، وزیر خارجہ

تہران: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مغرب میں شدت پسند طبقہ اسلاموفوبیا کو بڑھاوا دے رہا ہے جس پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ اسلامو فوبیا کے معاملے پر گفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں شدت پسند طبقہ اسلاموفوبیا کو ہوا دے رہا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے افسران سے بدھ کے روز خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ جلد ترکی کا دورہ کر کے ترک وزیر خارجہ سے اسلامو فوبیا کے حوالے سے گفتگو کروں گا تاکہ ہم اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرسکیں اور اسلامی ممالک متحد ہوں۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی تین روزہ دورے پر گزشتہ روز تہران پہنچے ہیں۔ انہوں نے آج ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوان اور ترکی کے وزیرخارجہ کے عقیدے سے واقفیت رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سوچ ، ہماری سوچ سے مطابقت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم امہ کے لیے سعودی عرب کی اہمیت سے سب واقف ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھے وزیراعظم کےساتھ جلد سعودی عرب جانے کا موقع ملےگا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت کے ساتھ اسلامو فوبیا کے حوالے سے گفتگو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مل کریہ علم اٹھائیں گے تو پوری امہ ایک نکتے پر متفق ہوگی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کچھ ایسے بیانات اور خاکے سامنے آئے جس سے پوری مسلم امہ کی دل آزاری ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ان گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد شدید دکھ  سے گزری۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اور اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی اس حوالے سے متفقہ طور پر قرار داد منظور ہوئی۔

امریکا کیخلاف اب حملوں کا امکان نہیں،امریکی وزیر خارجہ

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بطور وزیر خارجہ فرض بنتا تھا کہ میں اپنی قوم کے جذبات کو آگے پیش کروں۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

41