لاک ڈاؤن کاخاتمہ، کراچی میں پراپرٹی کی قیمت بڑھنے لگی

image

پراپرٹی شعبے میں ایک سال سے جاری جمود ٹوٹنے لگا۔ پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد مختلف علاقوں میں قیمتیں 10 سے 15 فیصد بڑھ گئیں۔

کرونا وباء کے باعث لگائے گئے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کاروباری صورتحال معمول پر آرہی ہے، ساتھ ہی رہائشی اور کمرشل پراپرٹی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

پراپرٹی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا اثر پراپرٹی میں بھی نظر آرہا ہے، شہر کی متوسط آبادیوں میں پراپرٹی کے نرخ بڑھ گئے ہیں اور شہر کے بیشتر علاقوں میں فلیٹس، پلاٹس، دکانوں اور بنگلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے، تاہم پوش علاقوں میں پراپرٹی ریٹس میں زیادہ فرق نظر نہیں آرہا۔

پراپرٹی ڈیلرز کے مطابق عدالتی احکامات کی زد میں آنیوالی بلڈنگ کے قریبی علاقوں اور سرکلر ریلوے میں آنیوالے علاقوں میں خریدار نہ ہونے کی وجہ سے قیمتیں غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

ڈیفنس اینڈ کلفٹن ایسوسی ایشن آف رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے جوائنٹ سیکریٹری معاذ لیاقت کے مطابق شہر میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، جس کا اثر بھی بعض علاقوں میں نظر آرہا ہے جبکہ عمومی مہنگائی کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

معاذ لیاقت کا کہنا ہے کہ شہری مہنگی پراپرٹی بیچ کر اس قیمت میں دوسرے علاقے میں نسبتاً بڑے پلاٹ، فلیٹ یا بنگلے خرید رہے ہیں، جس کی وجہ سے جن علاقوں میں شفٹنگ ہورہی ہے وہاں بھی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

شہر کے پوش علاقے جیسے کلفٹن، ڈیفنس، پی ای سی ایچ ایس، سندھی مسلم، دھوراجی اور کے ڈی اے اسکیم ون میں پراپرٹی نرخوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران کوئی خاص فرق نظر نہیں آرہا، ان علاقوں میں پہلے ہی ریٹ بہت زیادہ ہیں، ان علاقوں میں خرید وفروخت کا رجحان کم ہونے کی وجہ سے نرخ بھی مستحکم ہیں، البتہ دیگر متوسط علاقوں میں قیمتیں بڑھ رہی ہے۔

پراپرٹی ڈیلر جوہر اقبال کے مطابق مختلف علاقوں میں پراپرٹی کے نرخوں میں مختلف رجحانات نظر آرہے ہیں، بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے میں قیمتیں نارمل ہیں، بہت زیادہ فرق نظر نہیں آرہا، البتہ ملیر کے بعض نئے پراجیکٹس کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں۔

پراپرٹی ڈیلر کاشف کا کہنا ہے کہ گلشن اقبال، گلستان جوہر، پہلوان گوٹھ، ملیر، یونیورسٹی روڈ پر واقع رہائشی اسکیموں میں قیمتیں بڑھ گئیں ہیں۔

پراپرٹی ڈیلرز کے مطابق صدر، ایم اے جناح روڈ، جمشید روڈ، طارق روڈ میں کمرشل پراپرٹی کے نرخوں میں تو زیادہ فرق نظر نہیں آرہا البتہ رہائشی پراپرٹی کو گوداموں میں تبدیل کرنے کے رجحان کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، کینٹ میں فلیٹوں کی قیمتیں پہلے ہی بلند سطح پر ہیں، یہاں گزشتہ ایک سال سے زیادہ فرق نظر نہیں آرہا۔

ڈیلرز کا کہنا ہے کہ کھارادر، لیاری، گارڈن اور اولڈ سٹی ایریا میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری ہے، میٹرو ویل اور اورنگی ٹاؤن میں امن و امان کی بحالی کے بعد قیمتوں میں بہتری آئی ہے لیکن پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے قیمتوں میں زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔

ڈیلرز نے بتایا کہ ناظم آباد، لیاقت آباد، واٹر پمپ، حیدری، نارتھ کراچی سمیت ضلع وسطی کے بیشتر علاقوں میں پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

پراپرٹی ڈیلر گل محمد ماموند کے مطابق کرونا لاک ڈاؤن کے سبب کم آمدن طبقے کی قوت خرید متاثر ہونے کے باعث سپر ہائے وے پر مختلف اسکیموں کے پلاٹوں کی خریداری میں دلچسپی کم نظر آرہی ہے، جس کی وجہ سے نرخ بھی برقرار ہیں، شاہ لطیف ٹاؤن اور مہران ٹاؤن میں بھی قیمتیں گزشتہ 6 ھ ماہ سے برقرار ہیں، کچی آبادیوں میں بھی نرخوں میں کوئی خاص فرق نہیں آرہا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.