ڈالر کی قدر بڑھنے کا سلسلہ رک گیا

image

سعودی عرب سے قرض پیکج منظوری کے باعث پاکستانی روپے پر دباو میں کمی آگئی اورڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی  قدر میں غیر معمولی گراوٹ کا سلسلہ بھی رک گیا۔

بدھ کو انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں 2.49روپے جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں 1.70روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹربینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر1.49فیصد گر گیا اور ایک ڈالر2.49روپے کی کمی سے172.78ڈالر کی سطح پر آگیا جبکہ فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر1.70روپے کی کمی سے 174.50روپے ہوگیا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل سمیت دیگر کموڈٹیز کے نرخ بڑھنے کے باعث درآمدات کا حجم بڑھ گیا ہے جس کے نتیجے میں تجارتی وکرنٹ خسارے بھی اضافہ ہورہا ہے اورخسارے پر قابو پانے کے لئے آئی ایم ایف سے مذاکرات ہورہے ہیں۔

آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات میں تاخیر کے باعث زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمی اور روپے کی قدر پر دباوٗ کی صورت میں سامنے آرہا تھا لیکن سعودی عرب کی جانب سے 4.2ارب ڈالر کے امدادی پیکج کی وجہ سے صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے اور پاکستانی روپے پر دباو میں بھی کافی کمی آگئی ہے۔

دوسری جانب وفاقی مشیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ایک دو روز میں پیش رفت کا امکان ظاہر کیا ہے، اگر آئی ایم ایف سے قرض پروگرام بھی بحال ہوجاتا ہے تو پاکستانی روپے پر دباوٗ میں مزید کمی آئے گی۔

اس کے علاوہ معاشی ماہر عبدالعظیم کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی بحالی کے بعد حکومت انٹرنیشنل مارکیٹ میں 3.4ارب ڈالر کے سکوک اور یورو بانڈز بھی فروخت کرنے جارہی ہے جس کے نتیجے میں صورتحال میں مزید بہتری کی توقع ہے۔

اس سے قبل منگل کو انٹر بینک میں امریکی ڈالر 45پیسے کے اضافے سے 174.55روپے سے بڑھ کر175روپے ہوگیا جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالرکی قدر مزید20پیسے بڑھ گئی جس کے نتیجے میں امریکی ڈالر175.30روپے سے بڑھ کر175.50روپے کی ملکی تاریخ کی ایک اور بلند سطح پر پہنچ گیا تھا۔

یکم اکتوبر کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 172.40روپے کا تھا اور انٹر بینک میں یکم اکتوبر کو ڈالر170.48روپے کا تھا ماہرین کا خیال ہے کہ ڈالر رواں ہفتہ 170روپے کی سطح پر آسکتا ہے جب کہ آئندہ ہفتے ڈالر کی قدر 170 روپے سے بھی نیچے آسکتی ہے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.