ضمنی مالیاتی بل: کونسی اشیا پر کتنا ٹیکس لگ گیا

image

ضمنی مالیاتی بل میں شامل کھانے پینے کی درآمدی اشیاء، قیمتی موبائل فونز، پلانٹ، مشینری اور زندہ جانوروں کی درآمد پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا۔

بڑی بیکریز، ریسٹورٹنس، فوڈ چین یا مٹھائی کی دکانوں پر فروخت ہونے والی اشیاء پر بھی اضافی ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی پر قومی شناختی کارڈ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔

ایف بی آر کی طرف سے جاری سرکلر کے مطابق درآمدی برینڈڈ خوراک، پلانٹ، مشینری، درآمدی زندہ جانوروں، پولٹری، صنعتی مال پر پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کر دیا گیا ہے۔ درآمدی گوشت، پولٹری، انڈوں، بیجوں، زرعی سامان پر بھی 17 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

گرین فیلڈ انٹرسٹری کیلئے پلانٹ، مشینری پر بھی 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو کر دیا گیا ہے۔ بڑی بیکریز، ریسٹورنٹس، فوڈ چین، مٹھائی شاپس پر فروخت کی جانے والی اشیاء پر بھی 17 فیصد ٹیکس عائد ہے البتہ سیریل، گوشت، پولٹری، پھل، سبزیوں کی مقامی سپلائی پر ٹیکس استثنی برقرار رہے گا۔

مہنگے درآمدی موبائل فونر یعنی 200 ڈالر مالیت سے بڑے درآمدی فونز پر 17 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہو گیا۔ اس سے پہلے درآمدی موبائل فونز پر 1740 سے 9270 روپے فکسڈ ریٹ لاگو تھا۔ کاٹیج انڈسٹری کیلئے سالانہ ٹرن اوور ایک کروڑ سے کم کرکے 80 لاکھ کر دیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق افغانستان سے پھل، سبزیوں کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔

ایف بی آر کےمطابق ڈیجیٹل انوائسنگ، تجزیے کیلئے نیا ڈائریکٹوریٹ جنرل قائم کیا جائے گا اور کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروبار کو سربمہر کیا جا سکے گا ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈ یا ڈیجیٹل ادائیگی کیلئے قومی شناختی کارڈ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اس سے عام صارفین کو فائدہ ہوگا۔

سونے، چاندی، قیمتی دھاتوں، جیولری پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہو گیا ہے۔ مکمل تیار درآمدی پرنسل کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپ پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

ترمیمی بل کے تحت کارپوریٹ ٹیکس پیئرز کیلئے ڈیجٹل پیمنٹ کا استعمال لازمی قرار دیدیا گیا ہے۔ آن لائن پورٹلز یا پلیٹ فارم کی ادائیگی ڈیجیٹل طور پر کرنا ہوگی۔  آن لائن انٹربینک فنڈ ٹرانسفرز سروسز کی پیمنٹ بھی ڈیجیٹل کرنا لازمی قرار  دیا گیا ہے۔ آن لائن بل، انوائس، کارڈ پیمنٹ کیلئے بھی ڈیجیٹل طریقہ اپنانا ہوگا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.