پینٹاگون نے امریکی افواج کو ہائی الرٹ کا حکم دے دیا

image
برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کے مطابق پینٹاگون نے یوکرین کی سرحد پر روسی افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت کے بعد امریکی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 8500 فوجیوں پر مشتمل دستے کو ہائی الرٹ کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی وقت انہیں یوکرین جانے کا حکم مل سکتا ہے۔

روس نے ایک بار پھر مغربی ممالک کے پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف جارحیت کرنے جا رہا ہے۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ یوکرین کی سرحد پر 1 لاکھ روسی افواج کی موجودگی ثبوت ہے کہ روس یوکرین پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے یورپی اتحادیوں کے ساتھ وڈیو کال پر بات کی اور اتحادیوں کو اس تنازعے پر مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر زور دیا۔

پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوج کو تیار رہنے کا حکم ضرور دیا ہے لیکن ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ فوجی دستوں کو کہاں تعینات کیا جائے گا۔

پینٹاگون کے ترجمان جون کربے نے کہا کہ اتحادیوں کے مشورے سے طے کیا جائے گا کہ فوج دستوں کو کہاں تعینات کرنا ہے۔

Great meeting with @POTUS on European security with #NATO leaders @EmmanuelMacron, @OlafScholz, Mario Draghi, @AndrzejDuda, @BorisJohnson & our #EU partners @eucopresident & @vonderleyen. We agree that any further aggression by #Russia against #Ukraine will have severe costs. pic.twitter.com/r7wx0Xln4X

— Jens Stoltenberg (@jensstoltenberg) January 24, 2022

کچھ یورپی ممالک ڈنمارک، اسپین، فرانس اور ہالینڈ نے یوکرین کے تنازع پر اپنی حکمت عملی کا بتا دیا ہے، ان ممالک نے فوجی دستوں کے بجائے فوجی طیاروں کو مشرقی یورپی علاقوں میں تعینات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے گزشتہ ہفتے یوکرین کو 90 ٹن فوجی سازوسامان کی فراہمی کی گئی ہے جو یوکرین اور روسی سرحد کے قریب پہنچا دیا گیا ہے۔

گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے برطانیہ، فرانس ، جرمنی ، اٹلی اور پولینڈ کے صدور کے علاوہ نیٹو چیف سے وڈیو لنک کے ذریعے رابطہ کیا ہے۔

Square Adsence 300X250

News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.