میگھن مرکل کے الزامات، شاہی محل رپورٹ ’شائع نہیں کرے گا‘

image
برطانوی شاہی خاندان کے ذرائع نے کہا ہے کہ شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مرکل کی جانب سے شاہی عملے کے نامناسب رویے سے متعلق الزامات کی تحقیقاتی رپورٹ نہیں شائع کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے شاہی خاندان کے ایک سینیئر رکن کے حوالے سے کہا ہے کہ جمعرات کو سامنے آنے والی اس رپورٹ کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔

خیال رہے کہ بکنگھم پیلس نے گزشتہ سال تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور ڈچز آف سیسکس میگھن مرکل کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کی بنیاد پر شاہی خاندان کے عملے کے بیانات بھی اکھٹے کیے تھے۔

شاہی محل کے ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے نتیجے میں تجاویز بھی مرتب کی گئیں جو رپورٹ کا حصہ ہیں اور ضرورت کے مطابق پالیسیوں اور طریقہ کار میں تبدیلی بھی لائی گئی ہے۔

مارچ 2021  میں امریکی ٹی وی شو میزبان اوپرا ونفری کے ساتھ انٹرویو میں میگھن مرکل اور شوہر شہزادہ ہیری نے کسی کا نام لیے بغیر شاہی خاندان کے اراکین پر نسل پرستی کا الزام لگایا تھا جس کے بعد سے شاہی جوڑے اور خاندان کے دیگر افراد کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

میگھن مرکل نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’شاہی خاندان کی جانب سے تحفظ نہیں ملا، شاہی خاندان کو یہاں تک اعتراض تھا کہ ہمارے بچے کی رنگت کالی ہوگی۔‘

میگھن نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شاہی خاندان سے اس قدر ناخوش تھیں کہ انہوں نے خود کشی کے بارے میں بھی سوچا کیونکہ وہ ذہنی دباؤ میں شاہی خاندان سے مدد چاہتی تھیں جو انہیں نہیں ملی۔

میگھن مرکل نے کہا تھا کہ شاہی خاندان سے انہیں تحفظ نہیں ملا۔ فوٹو: اے ایف پی

ان الزامات کے جواب میں بکنگھم پیلس نے ملکہ برطانیہ کی جانب سے بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پوری فیملی کو یہ جان کر بہت دکھ ہوا ہے کہ ہیری اور میگھن کے لیے پچھلے چند سال کتنے چیلنجنگ رہے۔ 

بیان میں نسل پرستی کے الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ تمام معاملے کو خاندانی سطح پر نجی طریقے سے حل کیا جائے گا۔

شاہی زندگی سے دستبردار ہونے اور امریکہ منتقلی کے بعد میگھن مرکل اور شہزادہ ہیری نے رواں ماہ ملکہ برطانیہ کی پلاٹینم جوبلی کی تقریبات میں شرکت کی تھی۔ 

شاہی محل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ شہزادہ ہیری اور والد شہزادہ چارلز کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں لیکن تقریبات کے موقع پر شہزادہ چارلز کی اپنی ایک سالہ نواسی للی بٹ سے پہلی ملاقات بہت زیادہ جذباتی تھی۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.