بلوچستان میں بارش اور سیلابی ریلوں سے تین روز میں 33 ہلاکتیں، متعدد مکانات متاثر

بلوچستان میں تین روز کے دوران طوفانی بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 33 ہو چکی ہے اور حکام کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔
quetta
BBC

بلوچستان میں تین روز کے دوران طوفانی بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 33 ہو چکی ہے اور حکام کے مطابق مرنے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔

بلوچستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر و ترجمان فیصل نسیم پانیزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ تین روز کے دوران یہ ہلاکتیں کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب، کیچ، مستونگ اور دیگر علاقوں میں ہوئیں ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم میں موجود اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمیں جانی نقصان کے علاوہ مالی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

بلوچستان میں چار جولائی سے شروع ہونے والی بارش نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق صرف کوئٹہ شہر میں بارشوں اور طغیانی کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد نو ہو گئی ہے۔

قلعہ سیف اللہ میں سیلابی ریلوں میں نو افراد لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے آٹھ کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ ایک کی تلاش جاری ہے۔

RAIN, FLOOD
BBC

‎ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان کے ایک ہینڈ آؤٹ کے مطابق لورالائی میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد پانی میں بہہ گئے جن میں سے دو خواتین کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

مزید دو افراد کی ہلاکتوں کے بعد کوئٹہ شہر میں تین روز کے دوران مجموعی ہلاکتوں کی تعداد نو ہو گئی۔ ‎ضلع کیچ میں تین بچے سیلابی ریلے میں ڈوب کر ہلاک ہوئے جبکہ دو افراد ضلع کچھی میں مارے گئے۔

کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں دو خواتین کی ہلاکت ہوئی۔ ‎پی ڈی ایم اے کے مطابق کوہلو میں چار افراد جبکہ ژوب، چمن اور خضدار میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔

بلوچستان میں پری مون سون بارشوں کا سلسلہ 13 جون سے شروع ہوا تھا۔‎ پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم کے مطابق 13 جون سے لے کر اب تک بارشوں میں مجموعی طور پر 46 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 11 مرد، 18 خواتین اور 17 بچے شامل ہیں۔

اُدھر کوئٹہ کے قریب دشت کے علاقے میں سیلابی ریلا آیا جس کے باعث وہ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

BALOCHISTAN
BBC

’ماضی قریب میں کوئٹہ شہر میں ایسے مناظر نہیں دیکھے گئے‘

کوئٹہ میں نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے تیز یا موسلادھار بارشوں کے بعد گلیوں اور شاہراہوں کا ندی نالوں کا منظر پیش کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی لیکن گذشتہ پیر کے روز سہ پہر کو کوئٹہ شہر میں طوفانی بارشوں کے بعد شہر کے سریاب، مشرقی اور مغربی بائی پاس کے علاقے میں جو صورتحال پیدا ہوئی شہر کے کئی باسیوں کے مطابق ’ماضی قریب میں اس کا مشاہدہ کوئٹہ والوں نے نہیں کیا۔‘

سریاب کے کسٹمز کے علاقے میں پانی کے ریلے اس قدر تیز تھے کہ اس میں کئی لوگ بہتے ہوئے دکھائی دیے۔ وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے بجلی کے کھمبوں اور دیگر اشیا کا سہارا لیتے رہے۔

اسی طرح مشرقی بائی پاس کے قریب مویشی منڈی کے علاقے میں پانی کے تیز ریلے میں درجنوں بھیڑ بکریاں بہہ گئیں۔ لوگ بھیڑ بکریوں کو اپنی مدد آپ کے تحت بچانے کی کوشش کرتے رہے۔

بارشیں
BBC

سیلابی ریلوں سے مختلف علاقوں میں گھروں کو نقصان

طوفانی بارشوں کے بعد متعدد علاقوں میں نہ صرف بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوا بلکہ بعض علاقوں میں کچے مکانات منہدم بھی ہوئے۔

سریاب کے کلی سردہ میں کچے گھروں میں بارش کا پانی داخل ہوا اور بعض گھروں میں پانی اس قدر زیادہ تھا کہ ان میں قیام کرنا ممکن نہیں تھا۔

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ اور انتظامیہ کے دیگر اہلکار اس سکول میں ان کی مشکلات کو سُننے کے لیے پہنچے۔ ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر بتایا کہ ’صرف گوہر آباد کے علاقے میں تیس سے چالیس خاندان متاثر ہوئے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان: سیلابی ریلوں سے سڑکیں، فصلیں اور مکانات شدید متاثر

گندے نالے کا روپ دھارنے والی اورنگی ٹاؤن کی گلی اور کراچی میں بارش پر سیاست

روشنیوں کے شہر میں 'پتھر کے دور والا ماحول‘

کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں بارش سے تباہی، ’رین ایمرجنسی‘ نافذ

بعض متاثرین نے انتظامیہ کو بتایا کہ بارش کے پانی کی وجہ سے نہ صرف ان کے گھر رہنے کے قابل نہیں رہے بلکہ گھر کا سامان بھی پانی میں بہہ گیا۔

اُن کا کہنا تھا ان کے ساتھ دودھ پینے والے بچے بھی ہیں۔ ’سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے کے باعث دیگر اشیا کے ساتھ ساتھ بچوں کے دودھ اور دودھ پلانے والی بوتلیں بھی بہہ گئی ہیں جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں کہ اب وہ بچوں کو دودھ کیسے پلائیں۔‘

اچانک بے گھر ہونے اور ایک سکول کی عمارت میں پناہ لینے والے ان افراد کے چہروں سے پریشانی نمایاں تھی اور وہ چاہتے تھے کہ ان کو جلد سے جلد ریلیف فراہم کیا جائے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے انھیں یقین دہانی کروائی کہ انھیں فوری طور پر ٹینٹ اور خوراک فراہم کی جائے گی۔

کوئٹہ شہر کے بعض علاقوں میں طوفانی بارش اور سیلابی ریلے سے بعض علاقوں میں مکانات بھی گرے جن کی وجہ سے لوگ ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔

میر ضیا اللہ نے کہا کہ ’طوفانی بارشوں سے متاثرہ دیگر علاقوں میں امدادی اشیا بھیج دی گئی ہیں اور ویاں ریلیف کی سرگرمیاں جاری ہیں۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.