bbc-new

انڈیا کا یوم آزادی: سکھ رُکن پارلیمان یوم آزادی پر ترنگا کے بجائے ’کیسریا پرچم‘ لہرانے کی بات کیوں کر رہے ہیں؟

حکومت ہند نے انڈیا کی آزادی کے 75 سال کو بہت دھوم دھام سے منانے کے لیے 'ہر گھر ترنگا' کا نعرہ دیا ہے۔
انڈین پرچم ترنگا
EPA
انڈین پرچم ترنگا

حکومت ہند نے انڈیا کی آزادی کے 75 سال کو بہت دھوم دھام سے منانے کے لیے ’ہر گھر ترنگا‘ کا نعرہ دیا ہے۔

یہ ایک ایسا نعرہ ہے کہ حکومت کی مخالف پارٹیاں بھی اس کی کُھل کر مخالفت نہیں کر پا رہی ہیں۔ لیکن پنجاب کی ایک اہم پارٹی ’شیرومنی اکالی دل‘ کے رُکن پارلیمان سمرنجیت سنگھ مان نے اسے ایک نیا موڑ دے دیا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق رکن پارلیمان نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ 15 اگست کو انڈیا کے یوم جمہوریہ کے موقع پر انڈیا کے قومی پرچم ’ترنگا‘ کے بجائے اپنے گھروں پر کیسریا پرچم لہرائیں جو کہ سکھوں کا مذہبی پرچم ہے۔

انڈیا کی نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لوگ 14 اور 15 اگست کو اپنے گھروں پر کیسریا یا بھگوا پرچم اور نشان صاحب کی پرچم کشائی کریں۔ واضح رہے کہ نشان صاحب سکھوں کی مذہبی علامت ہے۔

اس سے قبل اتوار کو انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ انڈیا کی ’75 ویں سالگرہ پر جھنڈا لہرانے سے زیادہ بہتر خراج تحسین چین سے لداخ کو آزاد کروانا ہے۔ اس کے علاوہ غریبوں کو کھانا اور رہائش فراہم کریں۔ اگر نینسی پیلوسی ایسا کر سکتی ہیں تو سیاستداں اور جرنیل بھی کر سکتے ہیں۔‘

https://twitter.com/SimranjitSADA/status/1556240496367845381

مسٹر مان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سکھوں کے لیے علیحدہ وطن کے حامی ہیں۔

اُن کے بیان کے بعد ریاست میں کانگریس کے سربراہ امریندر سنگھ راجہ نے اُن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پوچھا ہے کہ آئین ہند پر حلف لینے والا کوئی سربراہ کس طرح قومی پرچم کی مخالفت کر سکتا ہے۔

انگریزی اخبار ’دی دکن ہیرالڈ‘ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’کوئی کسی کو اپنے گھروں پر کیسریا پرچم لہرانے سے نہیں روکتا اور ہر سکھ کو کیسریا رنگ پر فخر ہونا چاہیے کیونکہ یہ خالصہ کی عظیم اور شاندار روح کی علامت ہے۔‘ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ترنگا انڈیا کی آزادی کی علامت اور قومی پرچم ہے جس کی عزت و احترام لازمی ہے۔

ترنگا والی ڈی پی

اس سے قبل انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی ڈی پی میں ترنگا پرچم لگانے کی اپیل کرتے ہوئے اپنی ڈی پی بدلی تھی۔ بعض حلقے اسے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس تعلق سے انڈیا کے زیر انتظام ریاست جموں کمشیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انھوں نے انڈیا کے قومی پرچم کی توہین کی ہے۔ بہر حال انھوں نے وزیر اعظم مودی کی ڈی پی بدلنے کے ایک دن بعد اپنی ڈی پی تبدیل کی جس میں انڈین پرچم کے ساتھ کشمیر کا پرچم بھی نظر آتا ہے۔

محبوبہ مفتی نے لکھا: ’میں نے اپنا ڈی پی تبدیل کیا ہے کیونکہ پرچم خوشی اور فخر کی بات ہے۔ ہمارے لیے ہمارا ریاستی پرچم انڈین پرچم سے اٹوٹ طور پر جڑا ہوا تھا جسے ہٹا دیا گیا اس طرح رشتہ ٹوٹ گیا۔ ہو سکتا ہے آپ نے ہم سے ہمارا پرچم چھین لیا ہو لیکن اسے ہماری اجتماعی احساس سے نہیں مٹا سکتے۔‘

https://twitter.com/MehboobaMufti/status/1554700917098029056

’ہر گھر ترنگا‘ کے جواب میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اور ‏عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے ’ہر ہاتھ ترنگا‘ کا نعرہ دیا ہے اور انھوں نے کہا کہ اُن کی حکومت دہلی میں پانچ لاکھ پرچم مفت تقسیم کر رہی ہے۔

اس سے قبل کانگریس نے ڈی پی بدلنے کے اعلان پر جواہر لعل نہرو کی پرچم کے ساتھ ایک تصویر لگائی جو کہ اس زمانے کی یاد ہے جب انڈیا نے اس پرچم کو انڈیا کے پرچم کے طور پر قبول کیا تھا۔

بہر حال ڈی پی بدلنے کے معاملے پر یا ’ہر گھر ترنگا‘ کے معاملے پر سوشل میڈیا میں گرما گرم مباحثے نظر آئے ہیں۔ ایک کارٹون بہت زیادہ وائرل ہوا جس میں ایک آدمی کسی افسر نما شخص سے یہ کہتا ہے کہ ’سر یہ آدمی اپنے گھر پر پرچم لگانا چاہتا ہے۔ اس کے پاس پرچم ہے صرف گھر مانگ رہا ہے۔‘

حکومت کے حامی اور بہت سے وطن سے محبت کرنے والوں نے وزیر اعظم مودی کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں اپنے ڈی پی میں انڈیا کے قومی پرچم کو شامل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

حجاب کے مقابلے میں زعفرانی شال: یہ رنگ کس چیز کی علامت ہے؟

مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی انڈیا کی سب سے مقبول جماعت کیسے بنی؟

کیا لال قلعہ جس کے قبضے میں ہو، ہندوستان اس کا ہے؟

جبکہ بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ ’وزیر اعظم جی ڈی پی (کل ملکی پیداوار) بھول کر صرف ڈی پی تک رہ گئے ہیں۔‘ اس قسم کے ٹویٹس بھی ہزاروں میں نظر آئے۔

غریبوں کو پرچم کے نام پر ہراساں کرنے کے الزامات

حال میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح لوگوں سے زبردستی قومی پرچم خریدنے کو کہا جا رہا ہے۔ صحافی محمد زبیر کے مطابق یہ ویڈیو ہریانہ کے کرنال ضلع کی ہے۔

https://twitter.com/UTalashi/status/1557158340983427073

اسی طرح کی خبر فرید آباد ضلع سے ہندی اخبار امر اجالا نے شائع کی ہے جس میں راشن ڈپو سے یہ پیغام واٹس ایپ پر بھیجا گیا ہے کہ جو راشن کارڈ کے حاملین 20 روپے میں ترنگا نہیں خریدیں گے انھیں اگست کے مہینے کا راشن نہیں دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ انڈیا کئی ریاستوں میں غریبوں کو کہیں معمولی قیمتوں اور کہیں مفت راشن دیا جاتا ہے۔

اخبار کے مطابق ہریانہ کے فرید آباد ضلع میں 693 راشن ڈپو ہیں۔ جہاں سے واٹس ایپ پیغام بھیجا گیا ہے اس ڈپو کو 168 پرچم تقسیم کرنے کے لیے دیے گئے ہیں جسے انھوں نے 3200 روپے میں خریدا ہے۔ ڈپو کے مطابق ابھی تک صرف 20 لوگوں نے پرچم خریدے ہیں لیکن اخبار کے مطابق جب خوارک کے محکمے میں انسپکٹر ہمالیہ کو شک سے اس بابت پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ بغیر پرچم راشن نہ ملنے کی بات غلط ہے اور یہ کہ جھنڈے ان کے ڈپو پر اس لیے فراہم کروائے جا رہے ہیں تاکہ لوگ اسے آسانی سے حاصل کر سکیں۔

بہرحال وائرل ویڈیو میں لوگوں نے زبردستی جھنڈا دینے کا الزام لگایا ہے اور ایک شخص یہ کہتا نظر آ رہا ہے کہ اس کے پاس پیسے نہیں تھے تو اسے راشن نہیں مل سکا ہے۔

دوسری جانب بی جے پی لیڈر ورون گاندھی نے مودی حکومت کی ’ہر گھر ترنگا‘ مہم پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک ویڈیو ٹویٹ کیا ہے۔ انھوں نے اپنی ہی حکومت پر غریبوں پر بوجھ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔

https://twitter.com/varungandhi80/status/1557219024949235713

ٹویٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’راشن کارڈ ہولڈروں کو ترنگا خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے یا اس کے بدلے ان کے راشن میں سے حصہ کاٹا جا رہا ہے۔ غریبوں کا لقمہ چھین کر ہر ہندوستانی کے دل میں بسنے والے ترنگے کی قیمت وصول کرنا شرمناک ہے۔‘

پرچم
Getty Images

کانگریس کی مخالفت

وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ہر گھر ترنگا‘ مہم کے تحت 13 سے 15 اگست کے درمیان ملک کے 24 کروڑ گھروں میں ترنگا لہرایا جائے گا۔

لیکن وزیر اعظم کی اس مہم ’ہر گھر ترنگا‘ پر نیا تنازع بھی شروع ہو گیا ہے۔ کانگریس نے ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس پر ترنگا مخالف ہونے کا الزام لگایا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی خود آر ایس ایس کے سویم سیوک یعنی کارکن رہے ہیں اور انھوں نے کبھی بھی آر ایس ایس کے ساتھ اپنی قربت اور وابستگی کو چھپایا بھی نہیں ہے۔

انڈیا کے 75 سال بعد جو ’امرت مہوتسو‘ یعنی امرت جشن منایا جا رہا ہے اس میں پرچم کشائی انتہائی اہیمت کی حامل ہے۔ لیکن بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کام وہ جماعتیں کر رہی ہیں جنھوں نے برسوں تک اس پرچم کو تسلیم نہیں کیا اور آر ایس ایس نے تو نئی صدی کے آغاز تک اسے اپنے دفاتر پر لہرایا تک نہیں۔

https://twitter.com/RahulGandhi/status/1554870130785456128

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’تاریخ گواہ ہے کہ ہر گھر ترنگا مہم چلانے والے اس غدار وطن تنظیم سے نکلے ہیں جنھوں نے 52 سال تک ترنگا نہیں لہرایا۔ آزادی کی لڑائی سے یہ کانگریس کو اس وقت بھی نہیں روک پائے اور آج بھی نہیں روک پائیں گے۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.