bbc-new

’میرے ہم نشین‘: ’خجستہ کا رول نبھانے کے لیے ڈرائیور اور چائے والے پٹھان سے پشتو لہجہ سیکھنے کی کوشش کی‘

’لوگوں کے ساتھ کنیکٹویٹی اتنی اچھی ہو گئی تھی کہ لوگوں کو لگتا تھا کہ یہ خجستہ ہی ہے۔ اِس کردار کی وجہ سے میں ان کے گھر کا حصہ بن گئی۔‘
حبا بخاری
BBC

نجی ٹی وی چینل جیو سے نشر کیا جانے والا ڈرامہ سیریل ’میرے ہم نشین‘ بلاشبہ اُن چند ڈراموں میں سے ایک ہے جو ناظرین کی یاداشت میں ایک طویل عرصہ تک رہے گا۔ وجہ ہے اس ڈرامہ کی دل کو چھو جانے والی مختلف کہانی اورتمام اداکاروں کی بہترین اداکاری۔

’میرے ہم نشین‘ کی کہانی پاکستان کے پہاڑی علاقوں سے آنے والی ایک قدامت پسند اور روایتی خاندان کی لڑکی ’خجستہ‘ کے گرد گھومتی ہے جسے جنون کی حد تک ڈاکٹر بننے کا شوق ہے۔

وہ بچپن میں ہی گردوں کی خرابی کی وجہ سے اپنی والدہ کو کھو دیتی ہے اور ڈاکٹر بن کر وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو معالج اور صحت عامہ کی بہترین سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے۔ اس ڈرامہ کا مرکزی کردار اداکارہ حبا بُخاری نے نبھایا ہے۔

’خجستہ: ایک ڈریم رول‘

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں حبا بُخاری نے بتایا کہ ڈرامہ سیریل ’میرے ہم نشین‘ سے اُنھیں زیادہ توقعات نہیں تھیں۔

’میرا خیال تھا کہ یہ وہ کردار ہے جو میں کرنا چاہتی ہوں۔ ریٹنگ آئے گی نہیں آئے گی، لوگ کیسا ردعمل دیں گے مجھے نہیں پتا، لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ میں یہ کرنا چاہتی ہوں۔ یہ وہ کردار ہے جو میں گنوانا نہیں چاہتی۔‘

’جب میرے پاس آفرز آتی تھیں تو میں دیکھتی تھی کہ اِن میں سے کوئی مختلف کیسے ہو سکتا ہے۔ ہمارے پاس ایک جیسے ڈرامے ہوتے ہیں، ایک جیسے سکرپٹس ہوتے ہیں، ایک جیسے کردار ہوتے ہیں، آڈیئنس بھی دیکھتی ہے، پسند بھی کرتی ہے، ریٹنگ بھی آتی ہے۔ بہت کم کوئی ایسی چیزیں آتی ہیں کہ جس میں آپ کہتے ہیں کہ اس میں ایک رسک ہے جو میں لینا چاہوں گی۔ میرے لیے خجستہ وہ کرادر تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں جب فیلڈ میں نہیں آئی تھی تو میں نے اپنے ابو سے کہا تھا کہ بس ایک ایسا کام کر لوں جو مجھے لگے کہ میں نے بہت اچھا کر لیا ہے اور اُس کے بعد میں کام نہیں کروں گی۔ تو ابو نے کہا کہ میں نے آج تک کسی ایکٹر کو نہیں سُنا کہ میں نے اپنا وہ ڈریم رول کر لیا۔ جب آپ کو ایک دفعہ مل جاتا ہے تو آپ کو مزید کی خواہش ہوتی ہے۔‘

’ہیرو ہیروئن کیریکٹرز نہیں ہوتے‘

’میرے ہم نشین‘ کے دلچسپ سکرپٹ کے ساتھ ساتھ اداکاروں کے علاقائی لہجے میں اپنے کرداروں کو نبھانے کی کوشش نے اسے دیگر ڈراموں سےمختلف اور انوکھا بنا دیا۔

ٹی وی کے ناظرین کے لیے یہ ایک انتہائی خوشگوار تبدیلی تھی۔ حبا بتاتی ہیں کہ انھوں نے ڈرائیور اور چائے والے پٹھان سے اُن کا پشتو لہجہ سیکھنے کی کوشش کی۔

’جیسے ہم پٹھان بھائی کے پاس جاتے ہیں چائے پینے کے لیے، تو میں نے اپنے ڈرائیور بھائی سے پوچھا میں نے دو چائے منگوانی ہیں اور مجھے میٹھا کم چاہیے، بتاؤ کیسے بولوں گی؟ انھوں نے مجھے بول کے دِکھایا تو میں نے اُس کی پریکٹس کرنا شروع کر دی۔‘

ڈرامہ بننے سے پہلے جب بات ہوئی کہ علاقائی لہجہ نہ رکھا جائے تو حبا نے بتایا کہ انھوں نے اس پر اعتراض کیا کہ ’میں نے کہا میں نے تو پریکٹس کی ہے۔ میں کیسے بھولوں گی اور اگر بھول بھی جاؤں گی تو اِس میں اور باقی کرداروں میں کیا فرق رہےگا۔ پھر تو خجستہ کسی بھی دوسری عام لڑکی کے کردار کی طرح ہو گی۔‘

’میرے ہم نشین‘ کی کردار نگاری کی مشکلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے انڈسٹری میں ہونے والی بحث کا حوالہ دیا کہ ’ہیرو ہیروئن کیریکٹرز نہیں ہوتے۔ جب آپ اُنھیں کیریکٹرز بناتے ہیں تو یہ ایک مشکل چیز ہو جاتی ہے۔‘

’پہلے تو میرا اکیلے کام ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی کے سارے سین شوٹ ہو رہے تھے۔ جن لوگوں نے کہا کہ اب دیکھو اب اس کا لہجہ اور بولنے کا انداز ٹھیک ہو گیا ہے تو وہ پہلے شوٹ ہوئے ہوئے تھے۔ اور جب میں واپس سیٹ پر گئی ہوں سوات میں، تو سب نے کہا تم اتنا اچھا بول رہی ہو کہ اب ہمیں بھی بولنا پڑے گا۔‘

’(ڈرامہ میں) تم تو پڑھی لکھی ہو اور (علاقائی) لہجے میں بات کر رہی ہو اب تو لازماً ہمیں بھی بولنا پڑےگا کیونکہ ہم تو جاہل ہیں۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے، آپ اپنے حصے کا کام کریں۔‘

سیلاب، ایوارڈ شو اور سوشل میڈیا پر کھانوں کی تصاویر

سوات کے علاقے مدین میں ’میرے ہم نشین‘ کی شوٹنگ کے دوران گزارے گئے وقت اور وہاں کے قصے بتاتے ہوئے حبا آبدیدہ ہوگئیں۔ واضح رہے کہ حالیہ سیلاب کے دوران مدین سمیت سوات کے مختلف علاقوں میں بہت تباہی ہوئی ہے۔

پاکستان میں سیلاب سے نقصان کے بعد حال ہی میں ہم ٹی وی کی طرف سے کینیڈا میں ایوارڈ کی تقریب منقعد پر کافی تنقید ہوئی۔اس معاملے پر لوگوں کی رائے تقسیم نظر آئی۔ ہم کی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ ایوارڈ کی ایک تقریب سے ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ متاثرینِ سیلاب کو عطیہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’بچھو‘ کے لیے ایک معصوم اور بھولے بھالے چہرے کی تلاش تھی: طوبیٰ انور

’کہتے ہیں کہ عورت پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، مگر ہر ڈرامے میں مرد کو جانور بھی نہ دکھاؤ‘

’صبا قمر کے ساتھ کام کر کے پتا لگا کہ اس مقام پر وہ کس وجہ سے ہیں‘

ڈرامہ سنگ ماہ: ’جب عورت گالی میں شامل ہے تو فیصلوں میں کیوں نہیں‘

اداکارہ حبا بُخاری نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئےکہا کہ ’مجھے نامزد کیا گیا تھا لیکن میں نہیں گئی۔ درحقیقت ابھی میری آسٹریلیا کی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز ہیں اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ پوسٹ کریں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ابھی اُنھیں پوسٹ کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ کوشش کرتی ہیں کہ وہ کھانے پینے کی تصاویر بھی پوسٹ نہ کریں۔

’اگر کسی کے پاس کھانے کے لیے روکھی روٹی بھی نہیں ہے تو قدرتی طور پر وہ آپ کے ناشتہ کو دیکھ کر کچھ کہیں گے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہمارے یہاں پر کھانا ہے یا نہیں ہے لیکن فون سب کے پاس ہیں۔ وہ دیکھتے ضرور ہیں۔‘

’مائیں خود غرض ہوتی ہیں اور چھوڑ کے جاتی ہیں‘

حبا بخاری کا ایک اور ڈرامہ ’پہچان‘ چند ہفتوں پہلے ہی ختم ہوا ہے۔ اس ڈرامہ کی کہانی ’شرمین عرف کُوکی‘ نامی ایک خوبصورت اور سلیقہ مند شادی شدہ عورت کے گرد گھومتی ہے جو اپنی پہچان کی خاطر اچانک اپنا گھر بار اور بچے چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔

البتہ میکے اور سسرال والے اُس کے اس اقدام کو کسی اور مرد کی خاطر کی گئی بے وفائی گردانتے ہیں۔ واضح رہے کہ شرمین کو اپنے شوہر سے شکایت ہوتی ہے کہ اُس نے ساری زندگی اُسے اپنی سابقہ محبوبہ ’کُوکی‘ کے نام سے پُکار کر اُس کی شناخت ختم کر دی۔

حبا نے بتایا کہ جب انھوں نے اپنے شوہر عارض سے اس کردار پر بات کی تو انھوں نے بھی کہا کہ ’اگر ایسا ہوا تو میرے خیال میں میں بھی چلا جاؤں گا۔‘

اس ڈرامہ پر تنقید رہی کہ جیسی بھی صورتحال ہو مائیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر نہیں جاتیں۔ جس پر حبا نے کہا کہ ’بڑی متنازع بات ہے لیکن مائیں خودغرض ہوتی ہیں اور چھوڑ کر جاتی ہیں۔‘

’اگر ہم اپنا حلقہ احباب وسیع کریں تو معلوم ہو گا کہ کہیں نہ کہیں ایسا ہوا ہے کہ عورتیں اپنے بچوں کو چھوڑ کر گئی ہیں۔‘

پہچان میں اپنے کردار کے دفاع میں انھوں نے کہا کہ ’میں اسے مکمل طور پر خودغرض کردار نہیں کہوں گی کیونکہ وہ کہتی ہے کہ میرے سر پر خود چھت نہیں ہے، میں بچے کہاں لے کر جاؤں گی۔ اور بچوں کا مستقبل اپنے باپ کے ساتھ زیادہ محفوظ ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اُنھیں بہت سے لوگوں نے پہچان میں ایک شادی شدہ عورت کا کردار کرنے سے منع کیا تھا۔ ’انھوں نے کہا کہ دو بچوں کی ماں بن رہی ہو۔ میں نے کہا کہ کیریکٹر ہے نا۔ میں کالج کی لڑکی بھی بنتی ہوں۔ یہ ایک کردار ہے اور میرے لیے چیلنجنگ ہے۔‘

’لگتا ہے کہ یہ ہماری کہانی ہے‘

خجستہ کے کردار کی شائقین میں پسندیدگی پر حبا بخاری نے شکرادا کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز پر بہت محنت کرتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ اسے پذیرائی ملے تو صحیح ہے اور نہ ملے تو بھی صحیح ہے۔ لیکن اگر اُسے لوگ سراہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے اور یہ وہی والی خوشی ہے۔‘

لیکن اُن کے بقول اُنھیں زیادہ پیغامات ’میرے ہم نشین‘ کے بجائے ’پہچان‘کے لیے آئے۔ ’مجھے زیادہ میسجز آئے 'پہچان' کے لیے۔ ابھی بھی میرا انسٹاگرام پیغامات سے بھرا پڑا ہے اور اس طرح کے کامنٹس ہیں کہ یہ لگتا ہے کہ یہ ہماری سٹوری ہے۔‘

حبا نے بتایا کہ ’میرے ہم نشیں‘ کے لیے لوگوں نے اُنھیں براہ راست بہت اچھا فیڈ بیک دیا۔ وہ کہیں سے گزر رہی ہوں تو لوگ اُنھیں خجستہ کے نام پکارتے۔ کہیں کھڑی ہوں تو کوئی بچہ بول کے گزر جاتا تھا کہ ’مُورے کو بولو کہ کیسے کام کر رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کے ساتھ کنیکٹویٹی اتنی اچھی ہو گئی تھی کہ لوگوں کو لگتا تھا کہ یہ خجستہ ہی ہے۔ اِس کردار کی وجہ سے میں ان کے گھر کا حصہ بن گئی۔‘

’میں بہت بے چین سی روح ہوں‘

حبا بخاری
BBC

اداکار سید عارض احمد سے شادی پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’شادی کے بعد زندگی ہی تبدیل ہو گئی۔ ایک ٹھراؤ آتا ہے زندگی میں۔ مجھے ہر جگہ جانے کی جلدی ہوتی تھی۔ میں بہت بے چین سی روح ہوں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ گھر ہے اور فیملی ہے۔ یہ بڑی ہی خوبصورت بات ہے کہ اُسی فیملی میں رہتے ہوئے آپ کی ایک الگ فیملی ہے۔‘

مزید پڑھیے

’25 سال کی شادی میں میرے شوہر نے مجھے دھوکہ دیا‘

لگان: جب عامر خان نے ایک گاؤں بسایا اور انگریزوں کو ہندی سکھائی

راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن کی وہ فلم جس کو دیکھنے کے لیے ’کئی کالج خالی ہو گئے‘

’سندیسے آتے ہیں‘: فلم بارڈر جس پر پاکستان میں پابندی لگی لیکن گانے دلوں کو چھُو گئے

حالیہ چند برسوں میں نوجوان اداکاراؤں کی شادیوں اور انڈسٹری میں شادی کے حوالے سے بدلتے رجحان پر بات کرتے ہوئے حبا نے کہا کہ ’یہ ایک نیچرل چیز ہے اور شادیاں ہونی چاہییں۔ پہلے بھی ہوتی تھیں اور لوگ چھپا لیتے تھے۔ بچےبھی ہوتے تھے تھے لوگ چھپا لیتے تھے اور ان کی اپنی زندگی مشکل ہو جاتی تھی۔ایک نارمل زندگی جینے کے لیے بہت ضروری ہے چیزوں کو نارملائز کرنا بہت ضروری ہے۔‘


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.