bbc-new

یوکرینی افواج کی جنوب میں روس کے خلاف پیش رفت

یوکرین کی فوج نے روس کے غیر قانونی طور پر الحاق شدہ علاقوں میں سے کئی علاقے دوبارہ حاصل کر لیے ہیں جس سے روسی فوج کے لیے سپلائی لائن متاثر ہو رہی ہے۔
Ukrainian soldiers on APC in Donetsk region, 21 Sep 22
AFP
کئی علاقوں میں یوکرین کے مسلح دستے روسی فوج کے زیرِ قبضہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں

یوکرین کے فوجیوں نے روس کے غیر قانونی طور پر الحاق شدہ علاقوں میں سے کئی علاقے دوبارہ حاصل کر لیے ہیں۔ کیئو کی فوج جنوبی شہر کھیرسن کے قریب پیش قدمی کر رہی ہیں اور مشرق میں بھی مستحکم ہو رہی ہے۔

کھیرسن میں روس کی طرف سے لگائے گئے اہلکاروں نے بھی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے، لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ماسکو کی فوج بھی دفاع کے لیے تیار ہے۔

یوکرین کے فوجی مشرق میں روس کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ’کئی علاقوں میں آزاد کرائی گئی نئی بستیاں شامل ہیں۔‘

رات کے وقت دیے جانے والے اپنے خطاب کے دوران صدر زیلنسکی نے کہا کہ ’کئی علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے‘، لیکن انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ یوکرین کے جوابی حملوں کو کافی حد تک خفیہ رکھا جا رہا ہے اور نامہ نگاروں کو اگلے مورچوں سے زیادہ تر دور ہی رکھا گیا ہے۔

لیکن جنوب میں، کھیرسن کے علاقے میں روس کی طرف سے لگائے جانے والے رہنما ولادیمیر سالڈو نے اعتراف کیا ہے کہ یوکرین کی فوج پہلے والی فرنٹ لائن کے جنوب میں تقریباً 30 کلومیٹر دنیپرو ندی پر واقع قصبے ڈڈچانی کے قریب پہنچ گئی ہے۔

سالڈو نے کہا کہ ’یہاں ایسی بستیاں ہیں جن پر یوکرینی افواج کا قبضہ ہے۔‘ کچھ روسی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یوکرینیوں نے اب ڈڈچانی کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

روسی وزارت دفاع کے ایک ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ ’عددی لحاظ سے اعلیٰ‘ یوکرینی ٹینکوں نے زولوٹا بالکا کے جنوب میں کافی تقسیم پیدا کی تھی۔ تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ روسیوں نے اس لڑائی میں تقریباً 130 یوکرینی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

صدر پوتن یوکرین کے چار مزید علاقوں کے روس سے الحاق کا اعلان کریں گے

کیا یوکرین ڈارک ویب پر مغربی اسلحہ آگے فروخت کر رہا ہے؟

یوکرین جنگ: کیا روس ’گیم چینجر‘ کے طور پر ’ٹیکٹیکل‘ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟

سالڈو کے مطابق یوکرین کی دو بٹالین نے کھیرسن سے تقریباً 70 کلومیٹر مشرق میں کاخووکا ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن تک پہنچنے کی کوشش کی۔ یہ پاور سٹیشن ساحلی شہر نووا کاخووکا میں ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرین کی پیش قدمی ڈنیپرو کے مغربی کنارے پر 25,000 روسی فوجیوں کی سپلائی لائنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

Map of Kherson region
BBC

دریں اثنا مشرق میں کیئو کے فوجیوں کی پیش قدمی جاری رکھی ہے اور وہ آہستہ آہستہ لوہانسک میں داخل ہو رہے ہیں، اس صوبے پر گزشتہ ہفتے ماسکو نے قبضہ کیا تھا اور اس سے قبل یہ تقریباً مکمل طور پر روسی کنٹرول میں تھا۔

سنیچر کو یوکرین کی افواج نے مشرق میں اہم علاقے لیمان پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا، جو کہ لوہانسک کی علاقائی سرحد کے قریب واقع ہے۔ روسی افواج نے لیمن کو ایک لاجسٹک اڈے میں تبدیل کیا ہوا تھا۔

لوہانسک میں روس کی پراکسی فورسز کے ایک کمانڈر نے کہا کہ یوکرین کے فوجی اس علاقے میں چند کلومیٹر اندر تک داخل ہو گئے تھے، لیکن بعد میں انھیں مار دیا گیا۔ بی بی سی اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔

ایسی رپورٹس بھی ہیں کہ یوکرینی افواج لوہانسک میں روس کے زیر قبضہ قصبوں کریمنا اور سواتوو کی طرف بڑھ رہی ہیں، اور کریملن کے حمایتی بلاگرز کے مطابق روسی افواج کو دوبارہ پیچھے ہٹنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کھیرسن اور لوہانسک ان چار خطوں میں شامل ہیں جن کے متعلق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے دعوی کیا تھا کہ وہ روس کا حصہ ہیں۔ روس کا چاروں علاقوں میں سے کسی ایک پر بھی مکمل کنٹرول نہیں ہے۔

پیر کو کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے اس بیان کے بعد کہ روس ابھی یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ اس نے کن علاقوں کو ’ملحق‘ کر لیا ہے، ان کا کافی مذاق اڑایا گیا۔ اس سے ایسا تاثر بھی ملتا ہے کہ ماسکو یہ نہیں جانتا کہ اس کی خود ساختہ سرحدیں کہاں ہیں۔

پیسکوف نے دعویٰ کیا کہ لوہانسک اور ڈونیسک کے پورے علاقے روس کا حصہ ہیں، لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ کریملن ’کھیرسن اور زاپوریزہیا علاقوں کی سرحدوں کے حوالے سے آبادی کے ساتھ مشاورت جاری رکھے گا۔‘

کیئو نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ 2014 میں روسی فوجیوں کی طرف سے قبضے میں لیے گئے کرائمیا سمیت روس کے زیر قبضہ تمام علاقے واپس لے گا۔

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ صدر پوتن کے موبیلائزیشن آرڈر کے تحت فوج میں شامل ریزروسٹ اب روس کے زیر کنٹرول لوہانسک اور ڈونیسک علاقوں میں سخت جنگی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ کریملن تقریباً تین لاکھ ریزروسٹوں کو بلانے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن صدر پوتن نے اس کی کوئی حتمی حد مقرر نہیں کی تھی۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.