آخری وقت تکلیف دہ تھا امی کو ایک آنکھ سے نظر آنا بند ہو گیا تھا ۔۔ اداکارہ بشریٰ انصاری کی والدہ نے انہیں انتقال سے 2 سال پہلے کیا بات کہی، ویڈیو

image

الوداع میری پیاری امی جان۔ یہ دکھ بھرے الفاظ ہیں ملک کی مشہور اور مایاناز اداکارہ بشریٰ انصاری کے۔ جی ہاں آج ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے جس پر وہ انتہائی غمزدہ ہو گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم بشریٰ انصاری کے اپنی والدہ کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کے بارے میں بتائیں گے۔

ایک انٹریو کے دوران بشریٰ نے کہا تھا کہ میری بیٹی مجھے سے کہتی ہیں کہ امی آپ کام نہ کیا کریں تو میں ان سے کہتی ہوں کہ ہم اس ماں کی بچیاں ہیں جو زندہ دل انسان ہیں کیونکہ ایک حادثے کے بعد والدہ کو ایک آنکھ سے نظر آنا بند ہو گیا تھا تب بھی وہ کوکو اسٹوڈیو کے گانے سنا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ ایک آنکھ نہیں تو کیا ہوا، ایک تو ہے نا۔

اور ایک مرتبہ کی بات ہے کہ بہن اسماء کا بیٹا جو کہ اچھا گلوکار ہے یہ گھر میں گانا گا رہا تھا تو میری والدہ بھی اس کے ساتھ جھومنے لگیں جس کی ویڈیو مجھے بھی انہوں نے دیکھائی۔

دوسری طرف آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بشری اور اسماء عباس کی بہن سنبل شاہد انتقال کر گئی تھیں جس نے انہیں تور کر رکھ دیا تھا یہی وجہ ہے کہ کئی شوز میں مرحومہ بہن کا ذکر آنے پر بشریٰ انصاری رو گئیں۔

اس کے علاوہ اگر ان کی والدہ کی ہی بات کریں تو کئی سالوں سے بیمار تھیں اور وہیل چیئر پر تھیں یہی وجہ ہے کہ بہن سنبل کا انتقال ہوا تو گھر والوں نے انہیں نہیں بتایا۔ اس حقیقت سے پردہ ان کی بہن اسماء نے اپنی انسٹاگرام کی پوسٹ میں اٹھایا۔ اپنی ایک پوسٹ میں والدہ کو یہ بوسہ دیتے ہوئے دیکھائی دے رہی ہیں۔

اسی تصویر کے کیپشن میں انہوں نے لکھا کہ میری پیاری امی یہ نہیں جانتی کہ ان کا ایک چاند غروب ہو گیا ہے، خدا ان کی تکلیف و بیماری دور کرے۔ مزید یہ کہ بہن سنبل کے جانے سے اور والدہ کو یوں بیمار دیکھ کر اکثر بشریٰ انصاری ٹوٹ جاتی تھیں۔

اس بات کا واضح ثبوت ان کی ہی یہ پوسٹ ہے جس میں انہوں نے اپنے اہلخانہ کی تصویر اس کیپشن کے ساتھ شیئر کی کہ۔ اہلخانہ کا دل ٹوٹ چکا ہے۔


مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.