مظاہروں میں شدت کے بعد چین کی کورونا پابندیوں میں نرمی

image
چین میں کورونا وائرس کے پیش نظر نافذ پابندیوں کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاج کے بعد حکومت نے نرمی کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کے کئی شہروں میں لاک ڈاؤن ختم کر کے کاروباری مراکز دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ان پابندیوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے صحت کے حکام نے گذشتہ ہفتوں سے جاری ان مظاہروں کا ذکر نہیں کیا جو شدت اختیار کر چکے ہیں۔

سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین کی نائب وزیراعظم سن چونلان جو کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات کی نگرانی کرتی ہیں، نے کہا ہے کہ ’وائرس کی متاثر کرنے کی صلاحیت کمزور ہو رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ملک کو وبا کی روک تھام میں نئی صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ اومی کرون کی صلاحیت کم ہوتی ہے، زیادہ افراد کو ویکسین لگ چکی ہے۔‘

نائب وزیراعظم نے جانچ، علاج اور قرنطینہ کی پالیسیوں کو مزید ’بہتر بنانے‘ پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ تین برسوں میں چین نے کورونا وائرس کی غیر یقینی صورتحال سے ایک ’مستقل‘ حکمت عملی کے ساتھ نمٹا ہے تاہم  پھر بھی لچکدار اقدامات کیے ہیں۔‘

ہانگ کانگ کے شمال میں ایک وسیع و عریض مینوفیکچرنگ مرکز گوانگزو میں کم از کم سات اضلاع کے حکام نے بتایا کہ وہ عارضی لاک ڈاؤن اٹھا رہے ہیں۔

ایک ضلع نے اعلان کیا ہے کہ وہ سکولوں میں ذاتی طور پر کلاسوں کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے گا اور سینما گھروں سمیت ریستورانوں اور دیگر کاروبار دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔

چین میں آئندہ سال تک تمام کورونا بندشیں ختم ہونے کا امکان ہے (فوٹو: اے ایف پی)

وسطی چین میں واقع شہر ژینگزو نے سپر مارکیٹوں، جم اور ریستورانوں سمیت کاروباروں کو ’منظم طریقے سے‘ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

رواں ہفتے کے شروع میں قومی صحت کے حکام نے کہا تھا کہ چین عوام کے خدشات کا جواب دے گا اور خطے کے حالات کے مطابق قوانین کو زیادہ لچکدار طریقے سے نافذ کیا جانا چاہیے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ جیسے ہی چین میں بڑی عمر کے افراد کی ویکسینیشن کا عمل مناسب حد تک مکمل ہو جائے گا تو آئندہ سال کسی بھی وقت ملک میں تمام بندشیں ختم ہو سکتی ہیں۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ویکسینیشن کے عمل میں سست روی اپنائی گئی تو بڑے پیمانے پر بیماری کے پھیلاؤ اور اموات کا خدشہ ہے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.