bbc-new

قطر کا ’جامنی جزیرہ‘ جس نے دنیا کو امارت اور بادشاہت کے رنگ سے متعارف کروایا

رومی شہنشاہ ڈیوکلیٹین کے دور حکومت میں 301 عیسوی کے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جامنی رنگ کے ایک پاؤنڈ کی قیمت 150,000 دیناری، یا تقریباً تین پاؤنڈ سونا ہے (جو آج کی سونے کی قیمت کے اعتبار سے تقریباً 85،000 ڈالر ہے۔)
جزیرہ
Getty Images

قطر کے ایک کونے میں سعودی عرب سے منسلک چھوٹا سا جزیرہ نما علاقہ ایک ایسی جگہ ہے جسے اکثر ایک ’قدرتی خزانہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا نام ہی نہیں، تاریخ بھی دلکش ہے: یہ ہے جامنی جزیرہ۔

ایک ایسا ملک جہاں سالانہ 71 ملی میٹر سے بھی کم بارش ہوتی ہے، یہ جگہ سارا سال حیران کن طور پر سر سبز رہتی ہے۔

یہ جزیرہمینگرووز سے گھرا ہوا ہے۔ یہاں فلیمنگو اور دیگر سمندری حیات کے ساتھ ساتھ چھوٹے ساحل اور قدرتی نمک کے تالاب بھی ہیں۔ یہ مختلف انواع و اقسام کے پرندوں کا ٹھکانہ بھی ہے لیکن یہ چند دلکش کھنڈرات کا گھر بھی ہے اور ساتھ ہی یہاں گھونگوں کی باقیات بھی ہیں جنھوں نے اسے 2000 قبل مسیح کے آس پاس یہ نام دیا تھا جب ایک دلچسپ صنعت کی ابتدا ہوئی تھی۔

یعنی چھوٹے سمندری گھونگوں میں سب سے قدیم، سب سے مہنگے، باوقار اور سب سے زیادہ روشن رنگوں میں سے ایک کو تیار کیا گیا تھا۔

درحقیقت ’پرپل جزیرہ‘ آج تک اس شاندار ارغوانی یا جامنی رنگ کی پیداوار کا سب سے قدیم مقام جانا جاتا ہے۔ یہ شاہی جامنی رنگ ہے، جسے قدیم شہر صور کے جامنی رنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

جامنی رنگ کے کپڑے کی وجہ سے فونیشیائی تہذیب مشہور تھی۔ کچھ مؤرخین کا دعویٰ ہے کہ فونیشیا نام کا مطلب ’جامنی رنگ کی سرزمین‘ ہے۔

انھوں نے اسے اپنی کالونیوں خصوصاً کارتھیج برآمد کیا جہاں سے اس کی مقبولیت پھیلی اور رومیوں نے اسے اختیار اور شاہی حیثیت کی علامت کے طور پر اپنایا۔

جامنی رنگ
Getty Images

ایک بدبودار آسائش

تاہم یہ جامنی رنگ درحقیقت ایک غلطی کے نتیجے میں بنا تھا۔ بادشاہت، شان و شوکت اور فکری اور روحانی نظریات کے اعلیٰ مقام سے وابستہ اس رنگ کو کئی ہزار سال تک ریشے دار سمندری گھونگوں کے مقعد میں موجود ایک غدود سے نکالا جاتا رہا ہے۔

نہ صرف اس کو حاصل کرنے کا طریقہ نامناسب تھا بلکہ یہ انتہائی بدبودار بھی تھا۔ اگرچہ یہ ایک اعلیٰ مقام کی علامت تھا مگر اس میں گندگی کا عنصر تھا۔

ہزاروں گھونگوں کے مقعد سے نکالے گئے غدود جنھیں کچل کر دھوپ میں گلنے سڑنے کے لیے رکھ دیا جاتا تھا ایک چھوٹے سے کپڑے کو رنگنے کے لیے درکار ہوتے تھے۔

مزید یہ کہ یہ محنت طلب عمل تھا اور اسے مکمل ہونے میں کم از کم دو ہفتے لگتے تھے، جیسا کہ رومی مصنف پلینی دی ایلڈر نے اپنی ’نیچرل ہسٹری‘ میں تفصیل سے بتایا ہے۔

اس غدود سے نکلے ہوئے رنگ سے کپڑے کے ریشے رنگے جانے کے طویل عرصے بعد بھی سمندری گھونگوں کے فضلے کی بدبو برقرار رہتی تھی۔

گھونگا
Getty Images

لیکن ٹیکسٹائل کے دوسرے رنگوں کے برعکس، جن کی چمک تیزی سے ختم ہو جاتی ہے، قدیم شہر صور کا جامنی رنگ موسم اور وقت کے ساتھ مزید چمکتا ہے۔ یہی اس کا وہ معجزاتی معیار ہے جس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

رومی شہنشاہ ڈیوکلیٹین کے دور حکومت میں 301 عیسوی کے ایک حکم نامے میں کہا گیا کہ جامنی رنگ کے ایک پاؤنڈ کی قیمت 150,000 دیناری، یا تقریباً تین پاؤنڈ سونا ہے (جو آج کی سونے کی قیمت کے اعتبار سے تقریباً 85،000 ڈالر ہے۔)

دیوتا اور نازنین اپسرا

اس قدر قیمتی رنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان لوگوں کے متعلق ضرور کوئی افسانہ یا قدیم کہانی ہو گی جو اسے پہننے کی استطاعت رکھتے تھے اور دوسری صدی کے یونانی گرامر لکھنے والے جولیس پولکس ​​نے اس بارے میں بتایا ہے۔

اپنے ’نیم ڈے‘ میں اس نے بتایا کہ ایک دن ڈیمی گوڈ ہرکیولیس (رومن دیوتا ہرکیولیس) ایک خوبصورت اپسرا کے ساتھ سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا جب اس کا کتا ایک گلے سڑے گھونگے کو کاٹنے لگا۔

جب اس نازنین نے کتے کے منھ پر جامنی رنگ لگا دیکھا تو اس نے ہرکیولیس دیوتا سے کہا کہ اسے ایسے دلکش رنگ کے کپڑے چاہیے۔

دیوتا
Getty Images

پولکس ​​نے جب اس افسانے کو لکھا اس وقت تک جامنی رنگ صدیوں سے قدیم یونان میں عظمت اور پائیدار طاقت کی علامت رہا تھا، حالانکہ ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔

پانچویں صدی قبل مسیح میں یونانی مہنگے لباس کو ’وحشیانہ‘ سمجھتے تھے اور اسے اپنی شناخت کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔

مزید برآں، اس رنگ کا تعلق فارسی بادشاہوں سے تھا جو اسے پہنتے تھے اور جو گریکو-فارسی جنگوں (492-449 قبل مسیح) کے بعد ظلم اور زوال کی علامت بن گئے تھے لیکن جامنی رنگ سے نفرت پر قابو پا لیا گیا اور اگلی صدی کے وسط میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہونا شروع ہوا، جس کی وجہ سے بحیرۂ روم میں پیداواری مقامات کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

موت کی علامت کا رنگ

وقت گزرنے کے ساتھ، جامنی لباس پہننے کے حق کو قانون سازی کے ذریعے سختی سے کنٹرول کیا جانے لگا۔ سماجی اور سیاسی عہدہ جتنا اونچا ہوتا، معززین اس رنگ کے اتنی ہی چادریں اوڑھ سکتے تھے۔

کلیوپیٹرا کو یہ رنگ بہت پسند تھا اور جب جولیس سیزر اس کے دربار میں جانے کے لیے مصر گیا تو وہ جامنی رنگ کے مختلف شیڈز سے اس قدر مسحور ہوا کہ وہ جامنی رنگ کا چوغا پہن کر گھر واپس آیا اور حکم دیا کہ صرف وہی اس رنگ کو پہن سکتا ہے۔

اس کے چند برس بعد وہ قتل ہو گیا اور پلینی دی ایلڈر نے جامنی رنگ کے بارے میں لکھا:

’یہی وہ رنگ ہے جس میں روم کے صاحب اختیار اور معزز بھیڑ میں اپنا راستہ بناتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو بچپن کی عظمت کی تصدیق کرتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو سینیٹر کو عام آدمی سے ممتاز کرتی ہے۔ اس رنگ میں ملبوس افراد کے ذریعہ دعاؤں کو دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ کسی بھی لباس کی شان کو بڑھاتا ہے، اور فاتحانہ انداز میں اس رنگ کے لباس کو سونے کے ساتھ پہنا جاتا ہے۔‘

لیکن آپ کو اسے احتیاط سے استعمال کرنا ہو گا۔

جولیس سیزر
Getty Images

رومی مورخ سیوٹونیئس کے مطابق، موریطانیہ کے بادشاہ کو شہنشاہ کیلیگولا کے دورے کے موقع پر جامنی رنگ کا لباس پہننے کی وجہ سے جان گنوانی پڑی تھی۔

40 عیسوی میں جب وہ کیلیگولا سے ملاقات کے لیے اس رنگ کے عمدہ لباس میں ملبوس گلیڈی ایٹر شو کے دوران ایمفی تھیٹر میں داخل ہوا تو سب نے اس کی تعریف کی۔

کیلیگولا نے اس اشارے کو سامراجی جارحیت کے طور پر تعبیر کیا اور اپنے مہمان کو مار ڈالا تھا۔

رنگ کی باریکیاں

یہ جامنی رنگ خونریزی کی وجہ سے ایک دلچسپ حقیقت کی یاد دلاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ جتنا زیادہ جمے ہوئے خون کے گہرے سرخ رنگ سے مشابہت رکھتا تھا، اتنا ہی قیمتی تھا، جس کے بارے میں قیاس کیا جاتا تھا کہ یہ خدائی مفہوم رکھتا ہے۔

اور یہ پتا چلتا ہے کہ صور کا مشہور جامنی رنگ بالکل ٹھیک نہیں تھا۔

اس رنگ میں فرق اس بات پر منحصر تھا کہ رنگ کے لیے گھونگے کہاں سے لائے گئے ہیں، رنگنے کے لیے کون سا مورڈنٹ (کپڑے رنگنے کا کیمیکل) استعمال کیا گیا ہے اور یہاں تک کہ دن کے کس وقت رنگ کو سوکھنے کے لیے رکھا گیا ہے۔ ان تمام عناصر کے باعث اس رنگ کے شیڈ میں نمایاں فرق ہوتا تھا۔

جامنی رنگ
Getty Images

یہ بھی پڑھیے

سائنس حال ہی میں وائرل ہونے والے ایک اور فریبِ نظر کی وضاحت کیسے کرتی ہے؟

سفید ترین رنگ جو 98 فیصد سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے

جزیره ہرمز: ایران کا ’رینبو آئی لینڈ‘ جس کے بارے میں اکثر سیاح لاعلم ہیں

رومن وٹروویئس نے اپنی تحریر ’ڈی آرکیٹیکچر‘ میں اس رنگ کی بات کرتے ہوئے تفصیلات بیان کی ہیں کہ’یہ سب میں زیادہ قابل تعریف، بہترین اور دلکش رنگ ہے۔‘

یہ شمال کے قریب ترین علاقوں میں ’سیاہ‘،  مغرب میں ’لیڈ بلیو‘ جبکہ ’براغظمی علاقوں، مشرق اور مغرب میں یہ جامنی ہے  لیکن جنوبی علاقوں میں اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے، کیونکہ یہ سورج کے قریب ہوتا ہے۔‘

مختصراً یہ کہ یہ عام طور پر ہلکے ماؤ اور ارغوانی سیاہ کے درمیان کا کوئی رنگ ہوتا تھا لیکن اس کی رنگت کچھ بھی ہو، قدیم دنیا میں اس کی اہمیت ایسی تھی کہ اس کا ذکر نہ صرف ہومر کے اوڈیسی اور ایلیاڈ میں بلکہ بائبل میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔

گوسپل آف مارک کے مطابق، مثال کے طور پر یسوع و مسیح کو اذیت دینے والوں نے اسے ارغوانی رنگ کے لباس میں اذیت دی تاکہ اس کا ’یہودیوں کے بادشاہ‘ کے طور پر مذاق اڑائیں۔

بے رنگ

اس رنگ کے لباس اور کپڑے کی قدر کو دیکھتے ہوئے، ڈرائی کلینرز حکمرانوں کے لیے آمدنی کا ایک اچھا ذریعہ تھے یا تو ٹیکس وصول کرنے کے لیے یا انھیں ضبط کرنے کے لیے۔

جب رومی سلطنت کا زوال شروع ہوا اور افسانوی شہر صور پر عربوں نے قبضہ کر لیا تو شاہی ڈرائی کلینر قسطنطنیہ چلے گئے۔

جب تک 1453 میں سلطان مہمت دوم نے شہر کو فتح نہیں کیا تھا تب تک جامنی رنگ کو پادری کے اعلیٰ عہدے کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

جامنی رنگ اور اس کی آمدنی سے محروم، پوپ پال دوم نے 1464 میں حکم دیا کہ ڈائی کی جگہ اتنی ہی مہنگی سرخ رنگ کی رنگت کی جائے جو کرمس بگ اور ایک پھٹکڑی مارڈنٹ کے ساتھ تیار کی گئی تھی، جس کی اٹلی میں کانوں پر اس کا قبضہ تھا۔

رنگ
Getty Images

 

صور کے جامنی رنگ کی تفصیل کا صحیح علم کھو گیا اور یہ ان گھونگوں کے لیے خوش قسمت ثابت ہوا جو معدومیت کے دہانے پر تھے تاہم، یہ رجہان پہلے ہی گہری جڑیں پکڑ چکا تھا اور بادشاہت کا رنگ بن چکا تھا اور عظیم آقاؤں نے اپنے کاموں میں انسانوں یا خدائی مخلوقات کے لباس کو یہ شاندار رنگ دیا تھا۔

ایلپسیس یا نشان حذف

سنہ 1856 میں ایک 18 سالہ ابھرتے ہوئے برطانوی دواساز، ولیم ہنری پرکن نے اتفاقیہ طور پر ملیریا کا علاج تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک مصنوعی باقیات دریافت کی جو صور کے جامنی رنگ کی چمک کا مقابلہ کر سکتی تھی۔

یہ تاریخ کا پہلا مصنوعی رنگ تھا، پرکن کا انیلین جامنی، ہلکا جامنی، فالسی، بنفشی یا جامنی رنگ۔

ایک بار پھر، جامنی رنگ سب سے قیمتی رنگ بن گیا لیکن اس بار اس کی قیمت اتنی زیادہ نہیں تھی اور اس نے رنگوں اور ڈائینگ کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔

یہ نہ صرف پوری جدید کیمیائی صنعت کا آغاز تھا بلکہ اس نے پہلی بار ہر ایک کے لیے رنگ کی قوس قزح دستیاب کی۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.