bbc-new

سپین کے خلاف تاریخی فتح: مراکش کھلاڑیوں کا فلسطینی پرچم کے ساتھ جشن، بادشاہ کی فون پر مبارکباد

مراکش فٹبال ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنلز میں کوالیفائی کرنے والی پہلی عرب ٹیم بن گئی ہے۔ اس کے کھلاڑیوں نے جیت کا جشن اپنے ملک کے پرچم کے بجائے فلسطینی پرچم کے ساتھ منایا جس کا سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہو رہا ہے۔
مراکش، فلسطین، پرچم
AFP

ہر ٹیم چاہتی ہے کہ فیفا ورلڈ کپ جیسے بڑے مقابلے کے فیصلہ کن میچ میں ان کا سٹار کھلاڑی پرفارم کرے۔ مراکش کو بھی یہی امید تھی کہ اشرف حکیمی سپین کو اپ سیٹ دینے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

منگل کی شب 120 منٹ گزرنے کے باوجود کوئی ٹیم گول نہیں کر سکی تھی۔ مراکش کی دو کامیاب پینلٹیوں اور سپین کی دو ناکام پینلٹیوں کے بعد فیصلہ کن پینلٹی اشراف حکیمی کو لگانا تھی اور وہ یقیناً کافی دباؤ میں تھے۔

وہ سپین میں پیدا ہوئے اور ریال میڈرڈ کے لیے رائٹ بیک پر کھیلتے تھے۔ ان کی زندگی قدرے مختلف رہی ہوتی اگر وہ اسی ملک کے لیے کھیلتے جہاں وہ پیدا ہوئے۔

مگر 24 سالہ اشرف نے سپین کے بجائے اس ملک کے لیے کھیلنے کا فیصلہ کیا جہاں سے ان کے والدین اور آباؤ و اجداد کا تعلق تھا۔ اب قوم کی پوری ذمہ داری ان کے جواں کندھوں پر تھی۔

انھیں معلوم تھا کہ اگر وہ اس اہم مرحلے پر گول کر دیں گے تو مراکش پہلی بار فٹبال ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔

اشرف حکیمی آگے بڑھے اور ہسپانوی گول کیپر کو چکما دے کر گیند گول پوسٹ کے پار پہنچا دی۔

مراکش نے تین صفر کے کامیاب شوٹ آوٹ سے کامیابی حاصل کی اور اشرف حکیمی بھاگ کر شائقین میں سب کو چھوڑ کر اپنی والدہ کے پاس پہنچے جنھوں نے ان کے گال پر بوسہ دیا۔ یہ تصویر گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

ماضی میں اشرف حکیمی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے۔ ’میری والدہ گھروں کی صفائی کرتی تھیں اور میرے والد پھیری والے ہیں۔۔۔ میں آج ہر روز ان کے لیے محنت کرتا ہوں۔ انھوں نے میرے لیے کئی قربانیاں دیں۔‘

https://twitter.com/ESPNFC/status/1600199651969335331

مراکش اب چوتھی افریقی اور پہلی عرب ٹیم ہے جس نے کوارٹر فائنل (یعنی آخری آٹھ ٹیموں) میں کوالیفائی کیا۔ اس سے قبل تین افریقی ممالک (1990 میں کیمرون، 2002 میں سنیگال اور 2010 میں گھانا) نے کوارٹر فائنلز میں کوالیفائی کیا تھا۔ ان میں سے کوئی بھی ٹیم اس راؤنڈ سے آگے نہیں جا سکی تھی۔

میچ کے بعد مراکش کے مینیجر وليد الركراكی نے کہا کہ ’یہ بڑی کامیاب ہے اور کھلاڑی پُرجوش ہیں۔ انھوں نے عمدہ یقین کا مظاہرہ کیا۔‘

’ہمیں اس بے پناہ حمایت کا علم تھا جو ہمیں ملی اور گذشتہ رات کی پرفارمنس اسی سے متاثرہ تھی۔‘

یہ اس قدر بڑی کامیابی مانی گئی کہ ٹیم کے مینیجر کو مراکش کے بادشاہ نے میچ کے بعد فون کیا۔ ’کسی بھی مراکش شہری کے لیے یہ بڑی غیر معمولی بات ہے کہ آپ کو بادشاہ کا فون آئے۔ انھوں نے ہمیشہ ہماری حوصلہ افزائی کی ہے اور وہ ہمیں فون کر کے مشورے دیتے ہیں اور پوری جان لگانے کا کہتے ہیں۔‘

’ان کا ہمیشہ وہی پیغام ہوتا ہے۔ انھیں کھلاڑیوں پر فخر ہے اور اس کے نتیجے میں ہم بہتر سے بہتر کھیل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

اشرف حکیمی کو تیسری پینلٹی سکور کر کے ہیرو بننے کا موقع شاید نہ مل پاتا اگر مراکش گول کیپر ياسين بونو نے دو پینلٹیاں نہ روکی ہوتیں یا عبدالحامد صابری اور حکیم زیاش نے کامیاب پینلٹیوں کے بعد ملک کو دو صفر کی برتری نہ دلائی ہوتی۔

مراکش، پرچم، فلسطین، سپین، فٹبال ورلڈ کپ، قطر
Getty Images

جیت کا جشن فلسطینی پرچم کے ساتھ

تیسری کامیاب پینلٹی کے بعد سپین ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا اور مراکش کھلاڑیوں نے جیت کا بھرپور جشن منایا۔ چیلسی کے لیے کھیلنے والے زیاش اور کوچ کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا۔

مراکش فٹبالرز جیت کے موقع پر ایک پرچم کے ساتھ تصویر کے لیے جمع ہوئے۔ یہ ان کے اپنے ملک کا پرچم نہیں تھا، نہ ہی یہ الجزائر، تیونس یا لبنان کا پرچم تھا۔ ان تمام ملکوں کے شائقین عرب یکجہتی کے اظہار میں سٹیڈیم میں موجود تھے اور مراکش کی حمایت کر رہے تھے۔

بلکہ یہ فلسطینی پرچم تھا۔ قطر میں فیفا ورلڈ کپ کے دوران بارہا اس معاملے کو اٹھایا گیا ہے کہ ’فری پیلسٹائن‘ کے نعرے لگائے گئے ہیں۔

مراکش فینز نے سٹیڈیم کے باہر فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور ٹی شرٹس پہنچ رکھی تھیں۔ قریب ہر شمالی افریقی اور مشرق وسطیٰ ملک کی ٹیموں کے میچوں کے دوران یہ معاملہ زیرِ بحث آیا۔

سٹیڈیم کے اندر کے ماحول کے بارے میں سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مراکش فٹبال ٹیم کے کھلاڑیوں نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھا تھا۔ انھوں نے اسی پرچم کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائی۔

مراکش سٹرائیکر عبدالرزاق نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھا تھا۔

اگرچہ فلسطینی ٹیم خود ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کر پائی مگر ان کا پرچم اور فلسطینی لوگوں سے اظہار یکجہتی بارہا ٹورنامنٹ کے دوران نظر آتی رہی۔

رباط
Getty Images

’ہمیں خود پر یقین تھا، چاہے کسی کو ہو نہ ہو‘

ستمبر میں تعینات کیے گئے ركراكی کہتے ہیں کہ ’فینز کے بغیر یہ ناممکن ہے۔ وہ ہمارے ہوٹل آئے، انھوں نے میچوں کے ٹکٹ خریدے، امریکی، یورپ اور مراکش سے کئی فینز قطر میں ہماری ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے آئے۔‘

’انھیں ملک سے محبت ہے اور میں انھیں بس یہی بتا سکتا ہوں کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔ ہمیں ان کی کوارٹر فائنلز میں ضرورت ہوگی لیکن مجھے اپنے لوگوں اور فینز پر بہت فخر ہے۔‘

مراکش کو فٹبال ورلڈ کپ میں ’انڈر گاڈز‘ سمجھا جا رہا تھا اور انھیں یہ معلوم تھا۔

مگر وہ اپنے گیم پلان پر ڈٹے رہے۔ انھوں نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنایا جس کی وجہ سے سپین صرف ایک آن ٹارگٹ شاٹ لگا پایا۔ سپین نے مراکش کو تھکانے کی کوشش کی، کھلاڑیوں نے 120 منٹ میں ایک ہزار سے زیادہ پاسز کیے۔ مگر وہ کسی صورت مراکش ڈیفنس کو توڑ کر گول نہ کر پائے۔

اگرچہ سپین کے حامی شائقین پورے میچ کے دوران اپنی ٹیم کا جارحانہ کھیل دیکھتے ہوئے جھومتے ہوئے جملے کستے رہے۔ مگر مراکش فینز نے اپنی ٹیم کا ساتھ نہ چھوڑا۔

پینلٹیوں کے بعد ہسپانوی فینز کے چہرے لٹک گئے اور دل ٹوٹ گئے۔ یقیناً انھیں پوری رات اس شکست نے مایوس رکھا ہوگا۔

مراکش کپتان رومان سایس یہ میچ ہیمسٹرنگ انجری کے باوجود کھیلے۔ نایف اکرد انجری کے باعث لڑکھڑاتے ہوئے میدان سے باہر چلے گئے۔ جبکہ مڈ فیلڈر سفيان امرابط نے تیزی سے ان کی جگہ لی اور سپین کی ڈیفنس توڑنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔

وليد الركراكی کے مطابق سپین دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہے۔ ’ہم جارحانہ انداز میں نہیں کھیل سکتے تھے کیونکہ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے۔

’ہم نے تحمل سے کھیلا اور ہمیں معلوم تھا کہ ہمارے پاس دنیا کے بہترین گول کیپرز میں سے ایک ہے۔ ہم اس موقع کے لیے لڑتے رہے۔‘

سکاٹ لینڈ کے سابق فٹبالر پیٹ نوین نے کہا ہے کہ ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مراکش اس جیت کے مستحق نہیں۔ انھوں نہ اپنی جدوجہد، جنون اور دلیری سے پینلٹی شوٹ آؤٹ جیت کر میچ اپنے نام کیا۔‘

’یہ تاریخی لمحہ ہے۔ آپ یہ دیکھ سکتے ہیں اور محسوس کر سکتے ہیں کہ اس جیت کا قوم کے لیے کیا مطلب ہے۔ کسی کو توقع نہ تھی کہ وہ اس قدر دور تک پہنچ پائیں گے۔‘

سٹیڈیم کے باہر مراکش فین اعظم نے کہا کہ ’کسی کو یقین نہ تھا مگر ہمیں اپنی ٹیم پر مکمل یقین تھا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم دوبارہ بھی جیت سکتے ہیں۔‘

’اس ٹیم میں کئی ہیرو ہیں۔ وہ سیمی فائنل، پھر فائنل میں پہنچ کر ورلڈ کپ اٹھا سکتے ہیں۔ ہمیں سپین سے کوئی ڈر نہیں تھا۔ گیند ہمارے پاس ہوئی تو ہم ہی جیتیں گے۔‘

’مراکش میں جیت کا جشن ناقابل بیان ہے۔‘ ان کی بات سچ ہے کیونکہ مراکش دارالحکومت رباط میں شائقین نے سڑکوں پر جشن منایا ہے۔

اب ان کا اگلا امتحان سنیچر کو ہے جب ان کا کوارٹر فائنلز میں پرتگال سے مقابلہ ہو گا۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.