گرمی آگئی ہے، اب سب ہی اے سی چلانے لگے ہیں اور کچھ لوگ ابھی سوچ رہے ہوں گے کہ مزید کچھ دن نکل جائیں تو اے سی چلائیں گے تاکہ بل بھی کم آئے اور ٹھنڈی ہوا کے مزے بھی لے لیں۔ لیکن چونکہ سردیوں میں اے سی بند رہا ہے تو اس کو صاف صفائی کی ضرورت بھی لازمی پڑے گی۔ گھروں میں موجود اے سی کی صفائی کرنے کا طریقہ آپ بھی جانیئے تاکہ زیادہ عرصے تک آپ بھی اپنے اے سی کو چلاسکیں۔
ٹپ:
٭ سب سے پہلے اے سی کا بٹن بند کردیں تاکہ آپ کو صفائی کے دوران کسی قسم کا کوئی الیکٹرک کرنٹ نہ لگے۔
٭ اب ایک پُرانے ٹوتھ برش کو اے سی پر پھیریں کہ ساری مٹی اور دھول برش سے ہی ہٹ جائے، اس کام میں تقریباً آپ کا آدھا گھنٹہ لگے گا لیکن بہت احتیاط کے ساتھ اے سی کی صفائی ہو جائے گی۔
٭ پھر اس کے ڈرائیٖڈ فلٹر کو آرام سے نکالیئے اور پہلے سادے کپڑے سے ان کو صاف کریں اور پھر گیلے کپڑے میں تھوڑا سا سرف ڈال کر اچھی طرح اس پر لگائیں اور پانی سے دھو لیں، یہ کام بہت اطمیان سے کریں، کہیں آپ کا یہ فلٹر خراب نہ ہو جائے۔
٭ اس کے بعد اے سی کے اندر جو حصہ آپ کو نظر آ رہا ہے اس پر بھی سادہ کپڑا مار لیجیئے، تاکہ دھول مٹی نکل جائے۔
٭ اگر آپ کو اے سی کا پنکھا صاف کرنا ہے تو اس کو بھی اوپر طور پر صاف کرلیں کیونکہ پورا باہر نکالیں گے تو اس کے پیچ ڈھیلے پڑ جائیں گے، لیکن ہر سال میں ایک مرتبہ پنکھے کو مکینک سے دھلوائیں تاکہ اس میں گرد نہ جمی رہے۔
٭ فلٹر خُشک ہونے پر واپس اے سی میں لگائیے اور اب اپنے اے سی کو اپنی مرضی کے ٹیمپریچر(درجہ حرارت) پر چلائیے۔
٭ لیجیئے گھر میں آسانی سے اے سی صاف ہوگیا ہے، اب آپ کو کسی قسم کے مہنگے اے سی ٹیکنیشن سے سستا کام کروانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
کم از کم ہر تین ماہ میں ایک بار اے سی کے فلٹرز کو بدلوائیں جبکہ مہینے میں ایک بار اسے صاف کرنا چاہئے۔ اگر اے سی کے فلٹرز گندے ہوجائیں اور خراب ہوا خارج کرنے لگتے ہیں یا کوائل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک گندہ فلٹر اے سی کے بل میں 5 سے 15 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے۔
سال میں ایک بار لازمی اپنے گھروں میں لگے اے سی سسٹم کی سروس کروانی چاہئے، اس کے لئے آپ آن لائن ویڈیوز سے مدد لے سکتے ہیں کہ کیسے اے سی یونٹ کے کوائل اور فنز کی صفائی کی جاسکتی ہے۔
کسی بھی قسم کے پنکھے خاص طور پر سیلنگ فین، ٹھنڈی ہوا کو گھر میں پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، اس سے ایئر کنڈیشنز پر بوجھ کافی کم ہوجاتا ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھیں کہ گرمیوں کے دوران سیلنگ فین کو کاﺅنٹر کلاک وائز چلائیں۔
اے سی وینٹس کو فرنیچر یا پردوں سے چھپا دینا ہوا کی گردش کو محدود کردیتا ہے، تو اے سی کو کسی جگہ کو ٹھنڈا کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور بجلی کا بل بھی بڑھتا ہے، تو خیال رکھیں کہ اے سی وینٹس کے سامنے کوئی چیز موجود نہ ہو۔
سورج کی تپش آپ کے اے سی سسٹم کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس پر سورج کی روشنی کو روکنے کے لئے پردے یا بلائنڈز مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
بیشتر ائیرکنڈیشنگ سسٹم میں ڈرین کے ذریعے بخارات اور گھر سے باہر پانی کی نکاسی سے جڑے مسائل پر قابو پایا جاتا ہے۔ یہ ڈرین اکثر افراد نظرانداز کردیتے ہیں مگر یہ بہت اہم کام کرتے ہیں، اگر کوئی ڈرین بند ہوجائے تو اے سی سسٹم کے لیے بری خبر ہوتی ہے بلکہ اے سی کے ارگرد موجود فرش اور دیواروں کے لیے بری خبر ہے جن کو بہت زیادہ نمی سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تو ڈرین لائن کو صاف رکھنا چاہیے۔
عام طور پر اے سی یونٹ کو مخصوص کمروں۔ ہالز کو کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے، تو جب ائیرکنڈیشنر خریدنے لگیں تو اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہوتا ہے، اگر کمرے کو ڈیڑھ ٹن کے اے سی کی ضرورت ہے لیکن آپ ایک ٹن کا اے سی سسٹم لے آتے ہیں تو اس مشین کو کمرا ٹھنڈا رکھنے کے لئے بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے جس کی وجہ سے آپ کا اے سی بہت جلد خراب بھی ہوسکتا ہے.