کراچی شہر سمیت ملک بھر کے مختلف حصوں میں شہریوں کو موسم سرما میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم دن بھر گیس نہ ہونے اور بجلی سے چلنے والے مہنگے چولہوں سے پریشان افراد کیلئے ایک انتہائی بہترین اور سستا چولہا مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ یہ چولہا کیسے کام کرتا ہے اور مارکیٹ میں آپ کو کتنے روپے تک باآسانی مل سکتا ہے۔
بغیر بجلی اور گیس سے چلنے والے اس چولہے کو استعمال کرنا بہت آسان ہے، دراصل اس میں ایندھن کے طور پر بایوماس بریکیٹس (Biomass Briquettes) استعمال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ ایک کلو گرام بایوماس بریکیٹس کی قیمت صرف 40 روپے ہے جو کہ 1 گھنٹے تک چولہے کو جلائے رکھیں گے۔
اگر ان چولہوں کی قیمت کے حوالے سے بتایا جائے تو مارکیٹ میں مختلف ماڈل میں دستیاب ہیں، جن میں 10 ہزار سے لے کر 13 ہزار روپے کے درمیان آپ کو یہ چولہا باآسانی مل سکتا ہے۔
استعمال کرنے کا طریقہ
یہ چولہا اسٹیل کا بنا ہوتا ہے اور اس میں لکڑی کے بلٹ ڈال کر آگ سلگائی جاتی ہے۔ آگ سلگانے سے پہلے اس میں مٹی کے تیل کا ہلکا سا اسپرے کیا جاتا ہے اور اس میں لکڑی کے بلٹس ڈالے جاتے ہیں۔ جیسے ہی آگ جل جائے اسے ناب کے زریعے کم یا زیادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ چولہے میں ایک چھوٹا پنکھا فٹ ہوتا ہے جو چولہے کو ہوا فراہم کرتا ہے۔
چولہے کے بلٹس صرف 30 روپے کے ملتے ہیں جو ایک دن کے لئے کافی ہیں اور اس کا ماہانہ خرچہ 1500 ہے۔ اس چولہے کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ نہ برتن کالے کرتا ہے اور نا ہی زیادہ گیس بناتا ہے۔
اس وقت مارکیٹ میں یہ سولر چولہا کم از کم 5 ہزار جبکہ زیادہ سے زیادہ 17 ہزار روپے میں مل جائے گا۔
اس چولہے کو موبائل فون کے چارجر سے بھی چارج کیا جا سکتا ہے اس لیے یہ آسان حل آپ گھر لائیں اور افطاری یا سحری میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔ بس یہ چولہا لائیں اور مشکل آسان کریں۔