نوجوان بھارتی فاسٹ بالر عمران ملک کے آئی پی ایل اور بھارتی ٹیم کی نمائندگی کے بعد کروڑوں روپے کمانے کے باوجود ان کے والد عبدالرشید کشمیرمیں فروٹ کی دکان چلاتے ہیں۔
22 نومبر 1999 کو سری نگر میں پیدا ہونے والے عمران ملک دنیا کے تیز ترین گیند بازوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں، پریمئر لیگ میں سن رائزرز حیدرآباد اور ڈومیسٹک کرکٹ میں جموں و کشمیر کے علاوہ بھارتی قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے عمران کے والد نے فروٹ کے کاروبار سے انہیں اس قابل بنایا۔
عبدالرشید سری نگر میں فروٹ کا کاروبار کرتے ہیں اور اپنی ایک چھوٹی سی دکان سے انہوں نے ناصرف اپنے اہل خانہ کی تمام ضروریات کو پورا کیا بلکہ عمران ملک کے کرکٹ کے شوق کو بھی پورا کرنے کیلئے اپنی بساط کے مطابق ان کی مدد کی۔
عمران ملک نے 3 اکتوبر 2021 کوانڈین پریمئر لیگ کے 49 ویں میچ کے دوران کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف آئی پی ایل میں اپنا ڈیبیو کیا۔سن رائزرز حیدرآباد کی طرف سے کھیلتے ہوئے رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف میچ کے دوران لگاتار پانچ گیندیں 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے کرنے کے بعد انہوں نے توجہ حاصل کی۔
مئی 2022 میں عمران ملک کو جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے بھارتی اسکواڈ میں شامل کیا گیا۔عمران ملک 2021 میں اپنے ڈیبیو کے بعد اب تک تقریباً 5 کروڑ سے زیادہ کماچکے ہیں لیکن ان کے والد ابھی بھی سری نگر میں فروٹ کی دکان چلاتے ہیں۔
عمران ملک کے والد عبدالرشید کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے نے ہمیں ہر خوشی اور آسائش دی ہے لیکن میں اپنا کام نہیں چھوڑنا چاہتا، اسی کام سے میں نے اپنے خاندان کی کفالت کی اور عمران کرکٹر بنایا، اس لئے میرا کام چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔