آئی سی سی نے اہم قوانین میں تبدیلیوں کے ساتھ مینز اور ویمنز ایونٹس کے لیے یکساں انعامی رقم کا بھی اعلان کر دیا۔
جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں آئی سی سی کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہونے والی انٹرنیشنل لیگز میں ٹیموں کی فائنل الیون میں زیادہ سے زیادہ چار اوور سیز کھلاڑی ہی کھیل سکیں گے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے مردوں اور خواتین کے آئی سی سی ایونٹس میں یکساں انعامی رقم دینے کی بھی منظور دی جبکہ آئی سی سی کا نیا فنانشل ماڈل بھی منظور کر لیا گیا جس کے تحت انڈین بورڈ کو آئی سی سی آمدن کا بڑا حصہ ملے گا۔
لیگز میں ایسوسی ایٹ ملک کی نمائندگی کرنے والے کھلاریوں کو 7 مقامی کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکے گا۔
نئے قوانین کا اطلاق فوری طور پر موجودہ لیگز پر نہیں ہوگا جس کی وجہ سے آئی ایل ٹی ٹوئنٹی اور میجر لیگ ٹی ٹوئنٹی لیگ کو استثنیٰ حاصل ہوگا مگر مستقبل میں انہیں اس پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
آئی سی سی کے اجلاس میں سلو اوور ریٹ قانون پر بھی ترامیم کی گئیں اور طے کیا گیا کہ پلیئرز پر فی اوور پانچ فیصد جرمانہ ہوگا اور زیادہ سے زیادہ 50 فیصد میچ فیس کا ہی جرمانہ ہو سکے گا۔حال ہی میں انڈیا کی ٹیم کے پلیئرز پر پوری 100 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کر دیا گیا تھا۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اب لیگز کھلاڑیوں کے ہوم بورڈ کو کھلاڑی کی سائننگ کے عوض فیسں دینے کی پابند ہوں گی جبکہ پلیئنگ الیون میں کھلاڑیوں کی تعداد پر بھی شرائط عائد کردی گئی ہیں۔