پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد نے پیر کو اپنے 3,000 ٹیسٹ رنز مکمل کیے، وہ طویل فارمیٹ میں اتنے رنز بنانے والے پاکستان کے پہلے وکٹ کیپر بن گئے۔
پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان نے یہ کارنامہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گال میں کھیلے گئے دو میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے دوران انجام دیا۔
گال میں سری لنکا کے خلاف دو میچوں کی سیریز کے ابتدائی ٹیسٹ کی پہلی اننگز کے دوران سرفراز نے باؤنڈری اسکور کرکے یہ سنگ میل 91 اننگز میں حاصل کیا۔
وہ 20ویں پاکستانی بلے باز ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 3000 پلس رنز بنائے ہیں۔ بطور وکٹ کیپر بلے باز، وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے پاکستان کے پہلے کھلاڑی ہیں۔
2010 میں آسٹریلیا کے خلاف ہوبارٹ میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے سرفراز نے اپنے کیریئر میں اب تک 21 نصف سنچریاں اور چار سنچریاں اسکور کیں۔ ان کی آخری سنچری 2023 کے شروع میں نیوزی لینڈ کے خلاف بنی جب ان کی ٹیم کو ان کے تجربے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ سرفراز کی سنچری کی بدولت پاکستان نے کراچی میں کیویز کے خلاف دوسرا ٹیسٹ ڈرا کیا۔
سری لنکا کے خلاف جاری ٹیسٹ میں سرفراز 15 گیندوں پر صرف 17 رنز ہی بنا سکے۔ پربت جے سوریا کے خلاف سویپ شاٹ کی کوشش کرتے ہوئے وہ ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
پہلی اننگز میں سرفراز نے چار اہم کیچ لے کر اپنے مداحوں اور ناقدین کو متاثر کیا۔
شائقین کی جانب سے جاری ٹیسٹ میں ان کے انتخاب پر بھی سوال اٹھائے گئے کیونکہ ان کے خیال میں وکٹ کیپنگ کے معاملے میں محمد رضوان بہتر انتخاب ہیں۔ لیکن سرفراز نے اپنے ناقدین کو غلط ثابت کیا۔