“میں سمجھتی ہوں مسلمان کی حیثیت سے یہ بہت اہم ہے اس سے مسلمان عورت کی حیا کا اظہار ہوتا ہے اور مسلمان عورت کی پہچا ہوتی ہے۔ مجھے مسلمان عورت ہونے پر فخر ہے“
یہ کہنا ہے انگلینڈ کے کرکٹ ٹورنامنٹ اور اسکاٹ لینڈ کے لیے کھیلنے والی باحجاب کرکٹر ابہتا مقصود کا جنھوں نے حال ہی میں برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے سر پر ھضاب پہن کر کھیلنے کے متعلق بات کی۔
ابتہا مقصود پاکستانی نژاد خاتون ہیں جن کی عمر 24 سال ہے۔ ابتہا مقصود انگلینڈ کے ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ ’دی ہنڈرڈ‘ کی ٹیم برمنگھم فینکس کی جانب سے کھیلتی ہیں اور وہ اپنے ملک اسکاٹ لینڈ کے لیے بھی حجاب پہن کر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتی ہیں۔
ابتہا مقصود نے کچھ دن پہلے بچوں کے ایک ٹی وی پروگرام میں حجاب کے ساتھ شرکت کی کیونکہ وہ عام زندگی میں بھی حجاب پہنتی ہیں۔ پروگرام میں ابتہا نے اسلامی روایات کے متعلق ایک کتاب کے کچھ حصے بچوں کو پڑھ کر سنائے۔
ابتہا مقصود نے کہا وہ حجاب پہن کر کھیلتی ہیں کیونکہ مسلمان خواتین کے لیے پردہ اور حجاب کرنا لازمی ہے۔ حجاب بطور مسلمان آپ کی واضح شناخت ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ حیادار خاتون ہیں۔ اس کے علاوہ انتہا نے مزید بتایا کہ ان کو حجاب پہن کر کرکٹ کھیلنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی نہ ہی کوئی رکاوٹ آتی ہے اور میں یہ پہن کر بلا جھجھک کھیلتی رہتی ہوں۔
حجاب پہن کر کھیلنے کے حوالے سے ٹھوس دلائل دیتے ہوئے ابتہا نے کہا کہ حجاب پہن کر برمنگھم فینکس کے ہوم گراؤنڈ ایجبسٹن جیسے بڑے اسٹیڈیم میں کھیلنے سے بہت اہم پیغام جاتا ہے کہ آپ جیسے بھی نظر آتے ہوں اور آپ جو بھی پہنتے ہوں آپ جو چاہیں وہ کر سکتے ہیں۔ آپ بڑے اسٹیڈیم میں کھیل سکتے ہیں اور اپنا خواب جی سکتے ہیں اور جو چاہیں وہ کر سکتے ہیں۔