"میں دوپہر 3 بجے کام سے گھر آئی اور اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی کو بازار لے گئی۔ واپس آ کر مجھے کچھ ضروری کام سے پڑوس جانا تھا۔ اسی دوران منان، جو میری پھوپھی کا نواسا ہے اور تقریباً ڈیڑھ سال سے ہمارے گھر آتا جاتا تھا، میری بیٹی کو سیر کرانے کے بہانے باہر لے گیا۔ وہ پہلے بھی اسے گھمانے لے جاتا تھا، اس لیے مجھے اس پر شک نہیں ہوا۔ جب وہ بچی کو واپس لایا تو وہ بے ہوش تھی۔ میری بہن نے بتایا کہ وہ قے کر رہی ہے، اس لیے میں اسے فوری کلینک لے گئی۔ ڈاکٹر نے کہا شاید خراب دودھ پینے کی وجہ سے طبیعت خراب ہوئی ہے۔ گھر آ کر میں نے اسے او آر ایس پلائی اور وہ سو گئی۔ جب میں نے اس کا ڈائپر تبدیل کیا تو خون دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔ اس کی دھڑکن بند ہو چکی تھی اور ہونٹ کالے پڑ گئے تھے۔ میں نے سب سے مدد مانگی مگر کوئی ساتھ نہیں آیا، آخرکار میں خود ہی اسے اسپتال لے گئی۔ میرا شوہر میرے ساتھ نہیں رہتا، جنازے میں بھی کوئی نہیں آیا، حتیٰ کہ میری پھوپھی بھی نہیں آئیں۔ میری بیٹی صرف ڈیڑھ سال کی تھی، پوسٹ مارٹم میں معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ انتہائی ظلم کیا گیا۔"
کراچی کے علاقے قیوم آباد میں ڈیڑھ سالہ بچی کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں 17 سالہ رشتے دار کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
بچی کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں اپنی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم ان کے گھر کا آنا جانا رکھتا تھا، جس کی وجہ سے وہ اس پر اعتماد کرتی تھیں۔ تاہم اسی اعتماد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے مبینہ طور پر بچی کو سیر کے بہانے باہر لے جا کر جرم کیا۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے متاثرہ خاندان سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ملزم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا، جبکہ کئی افراد نے والدین پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں بچوں کو کسی کے ساتھ تنہا نہ چھوڑا جائے، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔