لاہور کے تھانہ غازی آباد میں ذہنی معذور بھکاری لڑکی سے مبینہ زیادتی کے واقعے کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی تحقیقات میں اہم انکشافات ہوئے ہیں، جبکہ واقعے پر سخت محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او سمیت پورے تھانے کے عملے کو معطل کردیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم اے ایس آئی عمران انور خاتون کو موٹر سائیکل پر تھانے لایا اور گیٹ پر موجود سنتری کو بتایا کہ خاتون ملزمہ ہے جسے تفتیش کے لیے لایا گیا ہے۔ بعد ازاں مبینہ طور پر اے ایس آئی خاتون کو انویسٹی گیشن روم نمبر 4 میں لے گیا، جہاں اس سے زیادتی کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ملزم خود ہی خاتون کو واپس چھوڑ کر آیا۔
پولیس کے مطابق خاتون کے اہل خانہ اس کے مبینہ اغوا کی درخواست دینے تھانے پہنچے تھے، تاہم اسی دوران انہیں اطلاع ملی کہ خاتون گھر واپس آ چکی ہے۔
واقعے کے بعد ملزم اے ایس آئی عمران انور کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ انچارج انویسٹی گیشن کو بھی معطل کردیا گیا۔ مزید برآں، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی ہدایت پر ایس ایچ او سمیت تھانہ غازی آباد کے مجموعی طور پر 78 اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے محکمانہ کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔