پاکستان کے معروف ڈیجیٹل کریئیٹر اسپیرو بٹ نے اپنی نسوانیت کے سبب جھیلی گئی مشکلات پر کھل کر بات کی ہے۔
اسپیرو بٹ جو دبئی سے سوشل میڈیا پر مقبول ہوئے اور اب امریکہ میں مقیم ہیں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ بچپن اور جوانی کے ابتدائی سالوں میں والدین کی نگرانی کی وجہ سے وہ زیادہ وقت گھر میں گزارنے پر مجبور رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی نسوانی خصوصیات کی وجہ سے انہیں دوست بنانے میں مشکلات پیش آئیں اور لوگ ان سے دوستی نہیں کرنا چاہتے تھے۔
اسپیرو بٹ نے بتایا کہ وہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی گئے اور انہوں نے ایم بی اے کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ زندگی میں اکیلے محسوس کرتے رہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ والد کے انتقال اور والدہ کی شادی کے بعد وہ بالکل تنہا ہو گئے لیکن اللہ نے ان کے حالات بہتر کیے اور منفی اثر ڈالنے والے لوگ ان کی زندگی سے دور ہو گئے۔ اسپیرو بٹ کے مطابق اس تجربے نے انہیں مضبوط بنایا اور ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کے راستے کھولے۔