ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ڈیووس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے بزنس راؤنڈ ٹیبل اجلاس میں نیسلے کے پاکستان میں 60 ملین امریکی ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں عالمی سطح کی معروف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران اور قیادت نے شرکت کی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، اصلاحاتی اقدامات اور طویل مدتی ترقی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیسلے کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ، مسٹر ریمی ایجل نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں اپنی سرگرمیوں میں توسیع کرے گی اور اسے علاقائی پیداوار اور برآمدی مرکز کے طور پر استعمال کرے گی، جہاں سے 26 ممالک کو مصنوعات برآمد کی جائیں گی۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی سمت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ برسوں میں نیسلے کے کاروبار میں نمایاں ترقی متوقع ہے۔
مسٹر ریمی ایجل نے مزید بتایا کہ نیسلے نے جدید مینوفیکچرنگ، خودکار فیکٹریاں، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال، بہتر پیکیجنگ اور ڈیجیٹل سپلائی چین کے ذریعے لاگت میں کمی اور ماحولیاتی اثرات میں بہتری کی ہے۔ نیسلے 180 سے زائد ممالک میں کام کر رہی ہے اور اس کے 277 ہزار سے زائد ملازمین ہیں، جبکہ 2025 میں اس کی عالمی آمدن تقریباً 114.25 ارب امریکی ڈالر رہی۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے نیسلے کی سرمایہ کاری کو پاکستان کی معاشی اصلاحات اور معیشت کی دستاویزی شکل کی جانب اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے، پالیسی میں تسلسل برقرار رکھنے اور نجی شعبے کے ساتھ روابط کے ذریعے ذمہ دارانہ طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں کم لاگت غذائیت، ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق ڈیری، مقامی ذرائع سے خام مال کی فراہمی اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ کے وسیع مواقع موجود ہیں اور حکومت پاکستان اسے علاقائی پیداوار اور عالمی ویلیو چینز کے لیے ایک مسابقتی مرکز بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔