شکارپور میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے تھانیدار کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
سکھر روڈ قومی شاہراہ پر ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے ایس ایچ او لکی غلام شاہ خمیسو خان بروہی کی نمازِ جنازہ پولیس ہیڈ کوارٹر میں ادا کردی گئی، نماز جنازہ میں ڈی آئی جی لاڑکانہ پولیس، رینجرز افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
شہید ایس ایچ او خمیسو خان بروہی نے 1992 میں بطور کانسٹیبل سندھ پولیس میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی طویل محکمانہ خدمات کے دوران انہوں نے مختلف علاقوں میں ذمہ داریاں نبھائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فرائض سرانجام دیے۔
شہید ایس ایچ او ہمیشہ خطرناک حالات میں خود آگے بڑھ کر قیادت کرتے تھے اور اہلکاروں کے حوصلے بلند رکھتے تھے۔ گزشتہ رات بھی سکھر شکارپور روڈ پر مسافروں کو ڈاکوؤں کی لوٹ مار سے بچاتے ہوئے انہوں نے ڈاکوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسی دوران شدید زخمی ہوئے۔
بعد ازاں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید کے پسماندگان میں اہلیہ، چار بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
پولیس حکام کی جانب سے شہید کے اہل خانہ کو مکمل سرپرستی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار، ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب نے شہید خمیسو خان بروہی کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہادر، نڈر اور فرض شناس افسر تھے، جن کی شہادت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ان کا مشن جاری رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ شکارپور سکھر روڈ قومی شاہراہ پر 7 ڈاکو ناکہ لگا کر مسافر بسوں کے مسافروں کو لوٹ رہے تھے کہ پہنچنے والی پولیس پارٹی اور ڈاکوؤں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا تھا، اس دوران ایس ایچ او تھانہ لکی خمیسو بروہی شدید زخمی ہوگئے تھے۔
جنہیں تشویشناک حالت میں سکھر کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شھید ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے اور فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے۔