لاہور کے تھانہ برکی میں سابق کرکٹر سلمان قادر کے خلاف درج مقدمہ نمبر 97/26 تاحال قانونی مراحل میں ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں متاثرہ لڑکی (م) مدعیہ ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مقدمات میں اصولی طور پر صلح نہیں ہوتی، تاہم اگر مدعی قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے مقدمے کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کرے تو عدالت کے روبرو کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزم کو ریلیف مل سکتا ہے۔
اس ضمن میں پولیس کے قانونی ماہرین، ڈی ایس پی لیگل اور دیگر متعلقہ افسران سے مشاورت جاری ہے۔
دوسری جانب متاثرہ لڑکی کے لواحقین کا مؤقف ہے کہ فریقین کے درمیان صلح ہوچکی ہے اور یہ واقعہ غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق تاحال کسی بھی سرکاری یا معتبر ذریعے سے صلح کے تحریری شواہد سامنے نہیں آئے۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ لاہور کی ایک نامی گرامی سیاسی شخصیت کی مداخلت سے فریقین کے درمیان رضامندی کرانے کی کوشش کی گئی، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
پولیس کے مطابق سلمان قادر اس وقت حراست میں ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ قانونی مشاورت اور دستیاب شواہد کی روشنی میں ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جس کے بعد ملزم کی رہائی یا مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔