پشاور یونیورسٹی میں اساتذہ کی جانب سے ترقیوں میں تاخیر کے خلاف جاری احتجاج کے باعث پیر سے تدریسی سرگرمیاں معطل ہیں۔
فیکلٹی ممبران نے سلیکشن بورڈ کا اجلاس طلب نہ کیے جانے پر کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رکھا ہوا ہے، جس کے باعث تمام شعبہ جات میں تعلیمی عمل ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد فاروق اور میڈیا سیکریٹری ڈاکٹر شوکت نے کہا ہے کہ سلیکشن بورڈ کے انعقاد میں تاخیر سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی رکی ہوئی ہے، جس پر احتجاج ناگزیر ہوگیا ہے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے یونیورسٹی روڈ کو تین گھنٹے تک بلاک رکھا جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب مبینہ لینڈ مافیا کے خلاف آپریشن کے معاملے پر سخت بیانات سامنے آئے۔
پولیس نے تھانہ تہکال میں 14 مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جن میں سابق ایم پی اے عاطف الرحمن بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب طلبہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں مگر کلاسز نہ ہونے کے باعث انہیں مایوسی اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اساتذہ کے مطالبات حکومت کو پیش کر دیے گئے ہیں اور مسئلے کے جلد حل کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ تدریسی عمل بحال کیا جا سکے۔