وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس ڈویژن میں عالمی سرمایہ کاروں کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات کی، جس میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC)، برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (BII)، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور بالٹورو کیپیٹل کے نمائندے شامل تھے۔
ملاقات میں نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور اصلاحاتی ایجنڈے میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خزانہ نے IFC اور ADB کو پاکستان کے دیرینہ ترقیاتی شراکت دار قرار دیتے ہوئے نجی شعبے کی مالی معاونت اور مقامی کرنسی میں فنانسنگ کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔
گفتگو کے دوران نجی شعبے کے کردار کو وسعت دینے، خودمختار رسک میں کمی اور مقامی کرنسی کے جدید مالیاتی نظام کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرنسی میں استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور توقع ہے کہ سال کے اختتام تک ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہوجائیں گے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے خسارے میں کمی اور مستحکم معاشی ماحول کی فراہمی کے حکومتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔
وزیرِ خزانہ نے تجارتی آزادکاری پروگرام، ٹیرف میں اصلاحات اور مسابقت بڑھانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کامیاب جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کی طرز پر استوار کرنے کے لیے اصلاحات جاری ہیں جبکہ سروسز سیکٹر کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اجلاس میں توانائی شعبے کی اصلاحات، ٹیکس پالیسی میں بہتری اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیرِ خزانہ نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، وصولیوں میں بہتری اور پالیسی کو ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مالیاتی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت تمام واجبات بروقت ادا کر رہی ہے اور پانڈا بانڈ اور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (GMTN) پروگرام سمیت بین الاقوامی قرض مارکیٹ تک رسائی کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنانا ترجیح ہے اور پی آئی اے کی نجکاری جیسے کامیاب اقدامات عالمی سرمایہ کاروں کے لیے مثبت اشارہ ہیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان کے اصلاحاتی اور سرمایہ کاری ایجنڈے کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس میں نجی شعبے کی شمولیت، تجارت کے فروغ، انفراسٹرکچر، ایس ایم ایز، مڈ کیپ کمپنیوں اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے نجی ایکویٹی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ پاکستان کو مستحکم، سرمایہ کار دوست اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کرنے والی معیشت بنانے کے لیے باہمی تعاون مزید مضبوط کیا جائے گا۔