وزارت خارجہ پاکستان کے ترجمان کے دفتر سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی زمینوں کو "ریاستی زمین" قرار دینے اور آبادکاری کے غیر قانونی اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ 1967 کے بعد پہلی بار وسیع پیمانے پر زمین کی رجسٹریشن اور قبضے کی اجازت دیتا ہے اور بین الاقوامی قوانین، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس اقدام سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی قبضہ مزید مضبوط ہوگا اور دو ریاستی حل کے امکانات کمزور ہوں گے۔
وزرائے خارجہ نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داری نبھائے، غیر قانونی اقدامات کو روکنے کے لیے فوری اور واضح اقدامات کرے، اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کو یقینی بنائے، جس کی سرحدیں 4 جون 1967 کی لائنوں کے مطابق ہوں اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔