پشاور ہائیکورٹ میں سڑکوں کی بندش اور احتجاج کے خلاف دائر کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے صوبائی حکومت پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت اپنے ہی لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے اور عوام اپنے ہی حکمرانوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے معاملے پر آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ صوبے کے حالات کا جائزہ لیا جائے، حکمران جماعت کے اقدامات سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں دو دن کا وقت دیا جائے، تمام معاملات کلیئر کر دیے جائیں گے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک کتنے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں کیس شروع ہونے سے پہلے ہی ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے اور وہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ عدالت نے انہیں کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں کہا، تاہم انہوں نے خود بتایا کہ سڑکیں بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے بند کی گئیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ پشاور کے اندر یا باہر کہیں بھی احتجاج ہو، سڑکوں کی بندش کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پارلیمنٹیرین اسلام آباد گئے ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عملدرآمد کروا رہے ہیں۔