سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے بنے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف فائر آفیسر کے ایم سی ہمایوں خان اور ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے آگ پر قابو پانے اور انسانی جانیں بچانے کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔
کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہوئے ڈی جی ریسکیو 1122 نے بتایا کہ آگ کی اطلاع انہیں رات 10 بج کر 35 منٹ پر ملی، اور فائر بریگیڈ موقع پر 10 بج کر 52 منٹ پر پہنچی۔ واجد صبغت اللہ نے کہا کہ ابتدائی کوششیں سیڑھی کے ذریعے کی گئیں جبکہ کے ایم سی کی فائربریگیڈ گاڑیاں اور اسنارکل بعد میں پہنچیں۔
ڈی جی ریسکیو نے مزید بتایا کہ پلازہ کے اندر قدرتی روشنی نہ ہونے، تنگ راستوں اور بند کھڑکیوں کی وجہ سے امدادی عمل متاثر ہوا اور اگر بجلی بند نہ کی جاتی یا ایمرجنسی اعلان ہوتا تو کئی انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
چیف فائر آفیسر کے ایم سی ہمایوں خان نے کہا کہ فائر ٹینڈر، اسنارکل اور باؤزر سے آگ پر قابو پایا گیا، لیکن ٹریفک اور محدود پانی کی وجہ سے ریسکیو میں مشکلات آئیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پلازہ کے اندر سنار کی دکان سے کروڑوں روپے کا سونا برآمد کیا گیا اور اگلی صبح عمارت کے گرنے سے ایک فائر فائٹر شہید ہوا۔
کمیشن نے پوچھا کہ آگ کے دوران پانی اور کیمیکل کا استعمال کس حد تک مؤثر تھا جس پر چیف فائر آفیسر نے کہا کہ فوم صرف آئل یا کیمیکل کی آگ پر مؤثر ہوتا ہے اور گل پلازہ میں یہ فائدہ مند نہیں تھا۔
عدالتی کمیشن نے ریسکیو کی تربیت اور ہائیڈرنٹ کی عدم دستیابی پر بھی سوالات اٹھائے، جس پر ہمایوں خان نے بتایا کہ شہر میں ٹریفک اور ریسکیو کیمیکلز کی دستیابی میں مشکلات آئیں اور موجودہ فائر ہائیڈرنٹس فعال نہیں ہیں۔
کمیشن کے سوال پر ڈی جی ریسکیو نے بتایا کہ آگ کی شدت ایک ہزار ڈگری سے زائد تھی فالس سیلنگ اور ناقص وینٹیلیشن بھی آگ پھیلنے کی وجوہات تھیں۔
کمیشن نے کہا کہ اگر چوکیدار فوری طور پر دروازے کھولتے اور لائٹ بند نہ کی جاتی تو انسانی جانیں بچ سکتی تھیں، جس پر چیف فائر آفیسر نے اتفاق کیا۔