غربت اور بے بسی کی ایک اور داستان سامنے آگئی جہاں ایک ننھی بچی شدید سردی میں اپنے والد کے ساتھ بھٹے پر اینٹیں بنانے پر مجبور ہے۔ بچی نے اپنی زندگی کی مشکلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ گھر کا خرچ چلانے کے لیے وہ روزانہ محنت مشقت کرتی ہے۔
کمسن بچی کی کہانی سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ پورا دن اپنے والد کے ساتھ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرتی ہے کیونکہ گھر میں ان کے علاوہ کوئی کمانے والا موجود نہیں۔
بچی کے مطابق ہمارے گھر میں کمانے والا کوئی اور نہیں ہے، میرا صرف ایک باپ ہے۔ یہ کام بہت سخت ہے اور اتنی سردی میں صبح صبح ہم آتے ہیں، مجھے بہت ٹھنڈ لگتی ہے۔
بچی کا کہنا تھا کہ گھر کی معاشی حالت انتہائی خراب ہے اور بنیادی ضروریات بھی پوری کرنا مشکل ہوچکا ہے۔
اس موقع پر بچی کے والد بھی آبدیدہ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی گھر میں چینی نہیں ہوتی، کبھی آٹا نہیں ہوتا، کبھی گھی نہیں ہوتا۔ اور یہ مزدوری، بھٹے پر اینٹیں بنانا، بھی بہت سخت ہے۔ کبھی پیسے بچتے ہیں، کبھی نہیں۔
والد کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کوئی ایسا ذریعہ معاش مل جائے جس سے گھر کا باعزت طریقے سے گزارا ہوسکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر انہیں رکشہ چلانے کا موقع مل جائے تو یہ کام نسبتاً آسان ہوگا اور آمدن بھی بہتر ہوسکتی ہے۔