عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔چیز سیکیورٹیز کی اتوار کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائیں تو آنے والے مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جو براہ راست پاکستان کی معیشت پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اگر خام تیل کی قیمتیں مستقل طور پر 100 ڈالر فی بیرل رہیں تو پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں 2.8 سے 3.7 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت جو سال 2026 کے آغاز میں تقریباً 68.70 ڈالر فی بیرل تھی، 8 مارچ تک بڑھ کر 92.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی یعنی تقریباً 35 فیصد اضافہ۔ اس ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 94.51 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک بھی پہنچی۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی بڑھ کر 90.90 ڈالر فی بیرل ہو گئی جس نے فیوچر ٹریڈنگ میں تقریباً 35.6 فیصد ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا۔
چیز سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں میں یہ اچانک اضافہ پاکستان کے صارفین پر بھی اثر ڈال رہا ہے کیونکہ تیل کی بڑھتی قیمتیں ٹرانسپورٹ اور خوراک کی لاگت میں براہِ راست اور بالواسطہ اضافہ کرتی ہیں۔ کنزیومر پرائس انڈیکس میں ایندھن اور ٹرانسپورٹ کا حصہ تقریباً 6 فیصد ہے اور اگر ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی کی مجموعی شرح میں تقریباً 1.2 فیصد کا اضافہ متوقع ہے۔