پنجاب حکومت نے ایندھن کے بحران اور معاشی دباؤ کے باعث بند کیے گئے تمام تعلیمی ادارے یکم اپریل سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے واضح کیا ہے کہ اب تمام کلاسز فزیکل ہوں گی اور کسی بھی قسم کے آن لائن یا ہائبرڈ سسٹم کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو ہفتے میں پانچ دن باقاعدہ تدریس جاری رکھنی ہوگی اور 3 یا 4 دن اسکول کھولنے کی کوئی تجویز قبول نہیں کی جائے گی۔
وزیرِ تعلیم نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیں تاکہ تعطیلات کے دوران ہونے والے تعلیمی نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے 9 مارچ کو صوبے بھر کے اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ تھا، جس سے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
تعلیمی ادارے 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہے اور اس دوران تدریسی سلسلہ آن لائن جاری رہا۔