محمد رضوان کو لاہور قلندرز کی حمایت کرنا مہنگا پڑگیا

image

پاکستان کے سابق کپتان محمد رضوان کو لاہور قلندرز کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا۔

کراچی میں راولپنڈی اور حیدرآباد کنگز مین کے میچ کے ٹاس پر جب رضوان سے پوچھا گیا کہ وہ کس ٹیم کو پلے آف میں دیکھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے لاہور قلندرز کا نام لیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

راولپنڈی کی 108 رنز سے بڑی ہار کے بعد کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ رضوان کو اپنی ٹیم کی جیت پر توجہ دینی چاہیے تھی نہ کہ لاہور قلندرز کی کوالیفکیشن پر۔ متعدد صارفین نے ان کی بیٹنگ فارم پر سوال اٹھاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اب انہیں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو خیرباد کہہ دینا چاہیے کیونکہ یہ فارمیٹ اب ان کے بس کا نہیں رہا۔

حیدرآباد نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 244 رنز بنائے جس کے جواب میں پلے آف کی دوڑ میں رہنے کے لیے راولپنڈی کو 158 رنز بنانے تھے، تاہم پوری ٹیم 17.1 اوورز میں 136 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔

محمد رضوان اس اہم میچ میں صرف 26 رنز بنا سکے جبکہ راولپنڈی کی ٹیم کے لیے پی ایس ایل کی پہلی مہم کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہ ہوئی جہاں وہ 10 میں سے 9 میچز ہار گئے۔

رضوان پورے ٹورنامنٹ میں اپنی بیٹنگ سے متاثر کرنے میں ناکام رہے جبکہ انہوں نے تمام 10 میچوں میں خود اوپننگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دوسری جانب محمد رضوان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی فارم کی واپسی کے لیے ایک کھلاڑی سے رابطہ کیا ہے، تاہم وہ فی الحال اس کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے رضوان نے کہا کہ اگر نتائج مثبت رہے تو وہ ضرور بتائیں گے کہ انہوں نے کس سے مدد حاصل کی۔ حیدرآباد کنگز مین کی پلے آف میں رسائی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنی ذاتی رائے دی کہ جس طرح حیدرآباد پچھلے کچھ میچز کھیلی، ان کا آگے جانا نہیں بنتا تھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ لاہور قلندرز کی پیش قدمی کے خواہشمند تھے، تاہم واضح کیا کہ میچ کے دوران ان کی تمام تر توجہ صرف اپنی ٹیم کی جیت پر مرکوز تھی۔

رضوان نے حیدرآباد کنگز مین کی بالنگ کی تعریف کی لیکن اپنی ٹیم کی ناکامی کا ملبہ خراب بالنگ اور فیلڈنگ پر ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کے بالرز اور فیلڈرز نے حیدرآباد کو 244 رنز کرنے دیے، جبکہ ابتدائی اوورز میں کیچز بھی چھوڑے گئے۔

انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ بڑے کھلاڑیوں کی موجودگی ٹیم کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے، ان کے بقول ٹیم میں اچھے کھلاڑی ہونے کے باوجود وہ یکجان ہو کر نہ کھیل سکے جو کہ انتہائی مایوس کن ہے۔

رضوان نے مزید کہا کہ وہ کوئی بہانہ نہیں بنا رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی ٹیم کو ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں کی انجریز کا بھی سامنا کرنا پڑا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US