پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نومنتخب ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں قومی ٹیم کی بہتر کارکردگی کے حوالے سے قوی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بار ٹیم کے پاس فائنل تک رسائی کا بہترین موقع موجود ہے۔
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ٹیسٹ کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اب تک ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں جنوبی افریقہ کے خلاف صرف ایک سیریز کھیلی ہے جو برابر رہی، تاہم اب ہمارے پاس آگے بڑھنے کے لیے بہت اچھا موقع ہے۔ انہوں نے اسکواڈ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں کپتان شان مسعود، بابر اعظم، امام الحق، سعود شکیل، سلمان علی آغا اور محمد رضوان جیسے منجھے ہوئے اور تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں، جبکہ کچھ نئے باصلاحیت کھلاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اپنی کوچنگ کے حوالے سے سرفراز احمد نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے اس فیلڈ میں کام کررہے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کے تجربے میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ ان کے پاس کوچنگ کا تجربہ کم ہے، ان کا کہنا تھا کہ بطور کھلاڑی ان کا کیریئر بہت اچھا رہا اور اب ان کی تمام تر توجہ کوچنگ پر مرکوز ہے۔
سرفراز احمد نے کوچنگ کے فلسفے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "ایک کوچ کا سب سے بڑا کام کھلاڑیوں کے ساتھ بہترین کمیونیکیشن اور ایسے تعلقات استوار کرنا ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی بلاجھجھک اپنی بات کرسکے۔"
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ریڈ بال ہیڈ کوچ کی ذمہ داری ملنے پر انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس ذمہ داری کو بخوبی نبھائیں گے۔ کراچی میں جاری کیمپ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اگرچہ بیشتر کھلاڑی پی ایس ایل پلے آف میں مصروف ہیں، تاہم یہاں ٹریننگ کا مقصد بنگلادیش جیسا موسم اور پچز فراہم کرنا ہے تاکہ اگلے ماہ ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے بھرپور تیاری کی جاسکے۔
پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان یہ ٹیسٹ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا اہم حصہ ہے، جس کے لیے قومی ٹیم اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔