سندھ کے ضلع سکھر میں پیش آنے والا ایک دردناک واقعہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھا گیا ہے کہ کیا واقعی خواتین کو دیا جانے والا تحفظ صرف کاغذی وعدوں تک محدود ہے؟ روہڑی کے قریب گاؤں شاہ بخش میں دو بچوں کی ماں گلاں کی کہانی خوف، بے بسی اور سماجی دباؤ کی ایک تلخ تصویر پیش کرتی ہے، جہاں ایک عورت نے اپنی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر انجام پھر بھی موت کی صورت میں سامنے آیا۔
گلاں نے 18 اپریل کو تھانے پہنچ کر پولیس سے مدد مانگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر سکیلدھو بھارو ان پر بدکاری کا الزام لگا کر انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ پولیس نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کیا جہاں انہوں نے واضح طور پر بتایا کہ وہ اپنی جان کے خطرے میں ہیں اور تحفظ چاہتی ہیں۔ عدالت نے ابتدائی طور پر انہیں دارالامان بھیجنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
لیکن کہانی یہاں ایک غیر متوقع موڑ لیتی ہے۔ عدالت میں گلاں کے والد اور ماموں بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے بیٹی کو سمجھایا، یقین دہانی کروائی اور یہاں تک کہ باپ نے اپنی پگڑی بیٹی کے قدموں میں رکھ کر اسے گھر واپس آنے پر آمادہ کیا۔ خاندان کی عزت کا حوالہ دیا گیا اور آخرکار گلاں نے عدالت میں اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے والد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ عدالت نے بھی تحریری ضمانت کے بعد اسے گھر جانے کی اجازت دے دی۔
یہ فیصلہ گلاں کی زندگی کا آخری موڑ ثابت ہوا۔ صرف 13 دن بعد اسی گھر میں جہاں اسے تحفظ کا یقین دلایا گیا تھا اسے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق اس قتل میں اس کے شوہر اور قریبی رشتہ دار ملوث تھے جنہوں نے بعد میں جرم کا اعتراف بھی کیا۔ شوہر نے اپنے بیان میں اسے غیرت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے نہ صرف قتل کو درست ٹھہرایا بلکہ اس پر فخر کا اظہار بھی کیا۔
اس واقعے سے پہلے گلاں کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ شدید خوف میں مبتلا دکھائی دیتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک رات ان پر حملہ کیا گیا اور وہ جان بچانے کے لیے اندھیرے میں دریا پار کر کے تھانے پہنچیں۔ ان کے زخمی پاؤں اور کانٹوں سے بھرے راستے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ واقعی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگی تھیں نہ کہ کسی جھوٹے ڈرامے کا حصہ تھیں۔
یہ واقعہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ سندھ میں کاروکاری جیسے الزامات پر قتل کے واقعات مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں سینکڑوں افراد اس رسم کا نشانہ بن چکے ہیں جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
گلاں کا کیس یہ واضح کرتا ہے کہ صرف قانونی کارروائی کافی نہیں جب تک سماجی رویے اور خاندانی دباؤ تبدیل نہیں ہوتے ایسے سانحات کا سلسلہ رکنا مشکل ہے۔ یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ اگر ایک عورت عدالت اور پولیس تک پہنچ کر بھی محفوظ نہیں رہ سکتی تو پھر اس کے لیے انصاف کا راستہ کہاں ہے؟