کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پشاور (سی ٹی ڈی) نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے 9 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 21 کو گرفتار کرلیا ہے جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق کرک اور خیبر میں کی گئی کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے خلاف اہم کامیابی حاصل ہوئی۔ یہ پیش رفت مدرسہ حقانیہ دھماکے اور مولانا فضل الرحمان پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق کیسز کی تحقیقات کے دوران سامنے آئی۔
سی پی او کے مطابق تحقیقات میں دہشتگردی کے فنانسنگ نیٹ ورک، مالی ذرائع، ٹھکانوں اور ٹارگٹ سلیکشن پیٹرن کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے دہشتگردوں کی فنڈنگ کے شواہد بھی ملے ہیں۔
حکام کے مطابق کالعدم تنظیموں کے سلیپر سیلز اور غیر ملکی جنگجوؤں کے نیٹ ورکس کا بھی سراغ لگایا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
سی پی او کا کہنا ہے کہ متعدد بڑے حملوں جیسے پولیس لائنز خودکش حملہ اور حقانیہ مدرسہ دھماکےکی ذمےداری کسی نےقبول نہیں کی جبکہ بعض کیسز میں کالعدم تنظیموں کے دعوے غلط اور گمراہ کن ثابت ہوئے۔