کراچی کے کارساز روڈ پر باپ بیٹی کو کچلنے والی امیر زادی نتاشا دانش اور گارڈن کی بدنام زمانہ منشیات فروش انمول عرف پنکی دختر مراد بخش کی تصاویر ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ساتھ وائرل ہورہی ہیں جس نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ان دونوں خواتین کا تعلق اگرچہ معاشرے کے دو بالکل مختلف طبقات سے ہے لیکن ان کی تصاویر کو ایک ساتھ دیکھ کر صارفین سوچنے پر مجبور ہیں کہ جرم کی نوعیت چاہے جو بھی ہو اس کا شکار ہمیشہ عام اور بے گناہ شہری ہی بنتا ہے۔
نتاشا دانش جو ایک بڑے کاروباری خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں اپنی لینڈ کروزر سے موٹر سائیکل سوار محنتی باپ عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ کی زندگی کا چراغ گل کیا جبکہ دوسری طرف ملکہ پنکی ہے جو برسوں سے کراچی کی گلیوں میں منشیات کا زہر پھیلا کر کئی گھر اجاڑ چکی ہے۔
سوشل میڈیا پر ان دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے عوام اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جہاں ایک طرف نشہ بیچنے والی مجرمہ قانون سے آنکھ مچولی کھیلتی ہے وہیں دوسری طرف نشہ کرکے انسانی جانیں لینے والی اشرافیہ کی خاتون پیسے اور اثر و رسوخ کے زور پر صلح نامہ کرکے قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
وائرل تصاویر دراصل ہمارے نظامِ عدل اور معاشرتی رویوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں کیونکہ صارفین کا ماننا ہے کہ ایک خاتون نسلیں تباہ کر رہی ہے اور دوسری نے ہنستا بستا گھرانہ اجاڑ دیا مگر دونوں ہی کسی نہ کسی صورت سزا سے بچ نکلنے کے راستے تلاش کرلیتی ہیں۔
اس وقت یہ معاملہ انٹرنیٹ پر انصاف کے دہرے معیار کی علامت بن چکا ہے جہاں لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جرم چاہے امیر کرے یا پیشہ ور مجرم، سزا کا نظام یکساں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب چند سوشل میڈیا صارفین نے نتاشا اور انمول عرف پنکی کی تصویر کو اے آئی پر مبنی قرار دیا جبکہ کچھ صارفین اس تصویر کو حقیقت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون منشیات فروش ہے جبکہ دوسری منشیات کی عادی ہے اور ایسی صورت میں ان کے تعلقات اچھنبے کی بات نہیں، تاہم تحقیقاتی ادارے اس حوالے سے بھی تحقیقات کررہے ہیں اور جلد حقیقت آشکار ہوجائے گی۔