نشئی کی ہلاکت، ڈرگ ڈیلر پنکی کے خلاف قتل کی ایف آئی آر پر نئی بحث

image

کراچی کے پوش علاقوں میں منشیات سپلائی کرنے والی ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کے گرد قانون کا گھیرا تنگ تو ہو رہا ہے، مگر اس کیس میں سامنے آنے والے نئے موڑ نے پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی پر کئی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

سوشل میڈیا اور صحافتی حلقوں میں اس وقت ایک ایسی ایف آئی آر زیرِ بحث ہے جسے قانونی ماہرین 'مضحکہ خیز' قرار دے رہے ہیں۔

تازہ رپورٹ کے مطابق کراچی پولیس نے ایک نشئی کی ہلاکت کا مقدمہ انمول عرف پنکی کے خلاف دفعہ 302 (قتل) کے تحت درج کیا ہے، جس کی بنیاد محض ایک تحریر بنی۔ بتایا جا رہا ہے کہ متوفی کی جیب سے ایک ڈبی ملی جس پر درج تھا: ''Queen madam pinky don Nam he kafi hai enjoy"۔

قانونی حلقوں میں یہ سوال گردش کررہا ہے کہ کیا محض ایک ڈبی پر لکھے نام کی بنیاد پر کسی کو قتل کا مجرم ٹھہرایا جاسکتا ہے اور کیا ماضی میں ایسی کمزور بنیادوں پر کبھی کسی کو سزا ہوئی؟

دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی گئی پولیس رپورٹ ایک ہولناک تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمہ ایک منظم گینگ چلا رہی ہے جو تعلیمی اداروں اور پوش علاقوں کے کم عمر بچوں کو نشانہ بناتا ہے۔

منشیات کی یہ لعنت کتنی جان لیوا ہے، اس کا اندازہ حالیہ دنوں میں معروف سیاسی شخصیات کے جوان بچوں کی مبینہ اوور ڈوز سے اموات سے لگایا جا سکتا ہے۔ جہاں اشرافیہ کے گھروں میں ماتم میڈیا کی زینت بنا، وہیں سینکڑوں گمنام نوجوان روزانہ اس زہر کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ حیران کن منظر عدالت میں ملزمہ کی پیشی کا تھا۔ بھاری مقدار میں منشیات کی برآمدگی کے الزامات کے باوجود، انمول عرف پنکی کی عدالت میں بغیر ہتھکڑی کے کسی 'کیٹ واک' کی طرح انٹری اور ان کا غیر معمولی اعتماد کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک سنگین جرم کی ملزمہ کا یہ اعتماد تب ہی ممکن ہے جب اسے یقین ہو کہ پسِ پردہ کوئی قوت اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا قانون کی گرفت ان بااثر مہروں تک پہنچ پائے گی یا یہ کیس بھی ناقص تفتیش اور 'انوکھی' ایف آئی آرز کی نذر ہوجائے گا؟


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US