کراچی اور لاہور میں منشیات کی سپلائی چین چلانے والی ملزمہ ’پنکی‘ کی گرفتاری کے بعد سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ کے باڈی لینگویج سے ایسا تاثر مل رہا تھا جیسے اسے قانون کا کوئی خوف نہ ہو اور اسے یقین ہو کہ اسے کوئی نہ کوئی چھڑا لے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے افراد کے سینوں میں اہم راز دفن ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ حساس ادارے اس نیٹ ورک کی جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گرفتاری کی تفصیلات کے مطابق، حساس ادارے (IB) نے ایک ہفتہ قبل ڈیوائس لوکیٹر کی مدد سے لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن سے پنکی کو حراست میں لیا تھا۔ کراچی میں چھاپہ مارا اہلکاروں نے اس کے فلیٹ پر چھاپہ مارا تو دروازہ خود پنکی نے کھولا، جہاں لیڈیز کانسٹیبلز نے فوری طور پر اس کا فون قبضے میں لے لیا۔ تلاشی کے دوران فلیٹ سے کروڑوں روپے مالیت کی اعلیٰ کوالٹی کی کوکین اور دیگر منشیات برآمد ہوئیں، جو وہاں تیار حالت میں رکھی گئی تھیں۔
لاہور میں ابتدائی کارروائی کے بعد اب کراچی کی عدالت نے ملزمہ کا تین روزہ ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔ اس کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تحقیقات کے لیے دو اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں، جن کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ چھ ارکان پر مشتمل یہ کمیٹیاں ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ کی سربراہی میں بغدادی اور گارڈن تھانوں میں درج مقدمات کی تفتیش کریں گی اور 15 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوں گی۔ ان کمیٹیوں میں سی آئی اے اور سی آئی یو کے افسران بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، گارڈن پولیس کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ملزمہ کو ہتھکڑی لگا کر اور چہرہ ڈھانپ کر عدالت کیوں نہیں لایا گیا۔ پارلیمنٹ میں بھی یہ معاملہ گونج اٹھا ہے، جہاں چیئرمین فیصل رحمان نے ڈی جی اے این ایف (ANF) کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسی کئی رپورٹس فائلوں میں دب گئیں، لیکن اب جس جس نے بھی اس گروہ کو ریلیف دیا، ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پنکی نے اپنی گرفتاری کی صورت میں ’جانشین‘ مقرر کر رکھے تھے تاکہ منشیات کی سپلائی چین متاثر نہ ہو۔ اس کے گروہ میں نسیم بی بی اور محمد کامل جیسے افراد بھی شامل تھے جنہیں بختیار کالونی سے پکڑا گیا تھا۔ ملزمہ کا بھائی بھی اسی کالے دھندے میں ملوث تھا جو تھانہ لکھپت کی حدود سے گرفتار ہوا، جبکہ ریاض بلوچ نامی شخص نے تصدیق کی ہے کہ فرار ہونے والی خاتون اس کی بہن تھی۔ حکام اب اس نیٹ ورک کے تمام مہروں کو بے نقاب کرنے کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔