ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی نے تفتیش کاروں کے سامنے سپلائی کے جدید طریقہ کار کا راز اگل دیا۔
ذرائع کے مطابق ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کا نیٹ ورک پکڑے جانے سے بچنے کے لیے جدید اور غیر روایتی طریقوں کا استعمال کر رہا تھا۔
تفتیش کاروں کے مطابق اس خفیہ نیٹ ورک کو انمول عرف پنکی چلا رہی تھی، جس پر الزام ہے کہ وہ گمنام ڈیلیوری رائڈرز اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن چینلز کے ذریعے پورے شہر میں کوکین کی ترسیل کو کنٹرول کر رہی تھی۔
تفتیش کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ نیٹ ورک موبائل فونز میں سم کارڈز کا استعمال نہیں کرتا تھا، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دینے کے لیے صرف وائی فائی اور مختلف سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کے ذریعے ہی رابطہ برقرار رکھتا تھا۔ اس پورے مواصلاتی نظام کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ منشیات کی خرید و فروخت کے دوران خریدار اور ترسیل کرنے والے (رائڈر) دونوں ایک دوسرے کی شناخت سے مکمل طور پر ناواقف رہتے تھے، یہاں تک کہ خریداروں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ منشیات کہاں سے آ رہی ہیں۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گینگ منشیات کی ترسیل صرف اسی صورت میں کرتا تھا جب ان کے مخصوص اکاؤنٹ میں رقم کی ادائیگی کی تصدیق ہو جاتی۔
رقم ملنے کے بعد نیٹ ورک کے کارندے منشیات کو پہلے سے طے شدہ مختلف خفیہ مقامات پر چھپا دیتے اور اس جگہ کی تصاویر اور لوکیشن کی تفصیلات مرکزی خاتون کوآرڈینیٹر کو بھیج دیتے، جو بعد میں یہ معلومات خریدار تک پہنچا دیتی تھی۔
حکام اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی نے دوران انٹیروگیشن صرف چند افراد کے نام از خود بتائے جن کے موبائل نمبرز اس کے فون سے ملے۔
یاد رہے کہ تقریبا 800 سے زیادہ نمبرز اس کے موبائل سے حاصل کیے گئے تھے جن میں سے کچھ کو وہ ذاتی حیثیت میں جانتی ہے جب کہ باقی نمبرز کسٹمرز کے بتائے جنہیں وہ صرف بحیثیت گاہک جانتی ہے لیکن ان سے کبھی ملی نہیں۔ بعدازاں دوران تفتیش ان تمام نمبرز کی سی ڈی آرز حاصل کی گئیں جس سے ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔