انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا، جہاں تاجر برادری کے رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی اور امن و امان سمیت شہر کے مختلف مسائل پر گفتگو کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر کراچی چیمبر ریحان حنیف نے آئی جی سندھ کو اعلیٰ سرکاری اعزاز ملنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کچے کے ڈاکوؤں کے خوف سے شہری سفر کرنے سے کتراتے تھے، تاہم آئی جی سندھ کی قیادت میں کچے میں کامیاب آپریشن کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈمپر اور ٹریلرز کی روڈ فٹنس کے حوالے سے ناقص ری ٹریٹ ٹائرز پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
ریحان حنیف نے منشیات کی اہم ملزمہ کی گرفتاری پر سندھ پولیس کو سراہا اور کہا کہ تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک کا دباؤ بڑھتا ہے جس کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پولیس کی جانب سے ایک فوکل پرسن مقرر کرنے کی تجویز دی تاکہ پلاٹس پر قبضے سے متعلق شکایات براہِ راست پہنچائی جا سکیں۔ ای چالان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی ٹیکس نہیں بلکہ جرمانہ ہے، شہری قانون کی پاسداری کر کے اس سے بچ سکتے ہیں۔
کراچی چیمبر کے سابق صدر جاوید بلوانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی آئی ڈی سی پر آٹومیٹک سگنل نصب کیا گیا ہے، اسی طرح پورے شہر میں آٹومیٹک سگنلز لگائے جائیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کچے کے علاقے کی طرز پر کراچی کے ڈاؤن ٹاؤن اور مضافاتی علاقوں میں بھی ڈرونز کے ذریعے آپریشن کیا جائے تاکہ اسٹریٹ کرائم سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔ جاوید بلوانی نے ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے غیر فعال ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کب مکمل ہوگا؟
انہوں نے اس پروجیکٹ کی جلد تکمیل کے لیے وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ٹریفک کے نظام اور اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے میں بڑی مدد ملے گی اور اس سلسلے میں کراچی چیمبر بھرپور تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے ٹریفک پولیس اور میئر کراچی کے درمیان مضبوط کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک پولیس ٹوٹے ہوئے راستوں کی نشاندہی کرے اور میئر کراچی انہیں فوری بنوائیں تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر ہو۔
بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران شہر میں اسٹریٹ کرائم میں کمی آئی ہے۔ تاہم انہوں نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ یونیورسٹیز، کالجز اور گیٹڈ کمیونٹیز میں منشیات کے نیٹ ورکس چل رہے ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔
زبیر موتی والا نے پولیس ریفارمز کے حوالے سے ایک اہم تجویز دی کہ پولیس کے ٹریننگ پروگرامز میں سائیکالوجی (نفسیات) کا مضمون شامل کیا جائے، کیونکہ لوگ موجودہ حالات میں شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں اور اس تربیت کی بدولت پولیس اہلکار شہریوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملات حل کر سکیں گے۔ انہوں نے اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے نظام میں بہتری لا کر ہی ایک اچھا معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔